کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: رات میں روزے کی نیت کئے بغیر نفلی روزہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 733
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " فَإِنِّي صَائِمٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس آئے اور آپ نے پوچھا : ” کیا تمہارے پاس کچھ ( کھانے کو ) ہے “ میں نے عرض کیا : نہیں ، تو آپ نے فرمایا : ” تو میں روزے سے ہوں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 733
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، الإرواء (965) ، صحيح أبي داود (2119)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصیام 32 (1154) ، سنن ابی داود/ الصیام 72 (2455) ، سنن النسائی/الصیام 67 (2324) ، سنن ابن ماجہ/الصیام 26 (1701) ، ( تحفة الأشراف : 17872) ، مسند احمد (6/49، 207) (حسن صحیح)»
حدیث نمبر: 734
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي ، فَيَقُولُ : " أَعِنْدَكِ غَدَاءٌ " فَأَقُولُ : لَا ، فَيَقُولُ : " إِنِّي صَائِمٌ " ، قَالَتْ : فَأَتَانِي يَوْمًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ ، قَالَ : " وَمَا هِيَ ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : حَيْسٌ ، قَالَ : " أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا " قَالَتْ : ثُمَّ أَكَلَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے تو پوچھتے : ” کیا تمہارے پاس کھانا ہے ؟ “ میں کہتی : نہیں ۔ تو آپ فرماتے : ” تو میں روزے سے ہوں “ ، ایک دن آپ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس ایک ہدیہ آیا ہے ۔ آپ نے پوچھا : ” کیا چیز ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : ” حیس “ ، آپ نے فرمایا : ” میں صبح سے روزے سے ہوں “ ، پھر آپ نے کھا لیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ایک قسم کا کھانا جو کھجور، ستّو اور گھی سے تیار کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 734
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، الإرواء (965) ، صحيح أبي داود (2119)
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (حسن صحیح)»