حدیث نمبر: 731
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ : كُنْتُ قَاعِدَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ ، ثُمَّ نَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ مِنْهُ ، فَقُلْتُ : إِنِّي أَذْنَبْتُ فَاسْتَغْفِرْ لِي ، فَقَالَ : " وَمَا ذَاكِ ؟ " قَالَتْ : كُنْتُ صَائِمَةً فَأَفْطَرْتُ ، فَقَالَ : " أَمِنْ قَضَاءٍ كُنْتِ تَقْضِينَهُ " ، قَالَتْ : لَا ، قَالَ : " فَلَا يَضُرُّكِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَعَائِشَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام ہانی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی ، اتنے میں آپ کے پاس پینے کی کوئی چیز لائی گئی ، آپ نے اس میں سے پیا ، پھر مجھے دیا تو میں نے بھی پیا ۔ پھر میں نے عرض کیا : میں نے گناہ کا کام کر لیا ہے ۔ آپ میرے لیے بخشش کی دعا کر دیجئیے ۔ آپ نے پوچھا : ” کیا بات ہے ؟ “ میں نے کہا : میں روزے سے تھی اور میں نے روزہ توڑ دیا تو آپ نے پوچھا : ” کیا کوئی قضاء کا روزہ تھا جسے تم قضاء کر رہی تھی ؟ “ عرض کیا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” تو اس سے تمہیں کوئی نقصان ہونے والا نہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس باب میں ابو سعید خدری اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس باب میں ابو سعید خدری اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حدیث نمبر: 732
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ : كُنْتُ أَسْمَعُ سِمَاكَ بْنَ حَرْبٍ، يَقُولُ : أَحَدُ ابْنَيْ أُمِّ هَانِئٍ، حَدَّثَنِي فَلَقِيتُ أَنَا أَفْضَلَهُمَا ، وكانت أم هانئ جدته ، فَحَدَّثَنِي ، عَنْ جَدَّتِهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَى بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ، ثُمَّ نَاوَلَهَا فَشَرِبَتْ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَا إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِينُ نَفْسِهِ ، إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ " . قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ لَهُ : أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَ : لَا ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَالِحٍ وَأَهْلُنَا ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ . وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، فَقَالَ : عَنْ هَارُونَ بْنِ بِنْتِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، وَرِوَايَةُ شُعْبَةَ أَحْسَنُ ، هَكَذَا حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، فَقَالَ : أَمِينُ نَفْسِهِ ، وحَدَّثَنَا غَيْرُ مَحْمُودٍ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، فَقَالَ : أَمِيرُ نَفْسِهِ أَوْ أَمِينُ نَفْسِهِ عَلَى الشَّكِّ ، وَهَكَذَا رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ شُعْبَةَ أَمِينُ أَوْ أَمِيرُ نَفْسِهِ عَلَى الشَّكِّ . قَالَ : وَحَدِيثُ أُمِّ هَانِئٍ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، أَنَّ الصَّائِمَ الْمُتَطَوِّعَ إِذَا أَفْطَرَ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يُحِبَّ أَنْ يَقْضِيَهُ ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَأَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق ، وَالشَّافِعِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شعبہ کہتے ہیں کہ میں سماک بن حرب کو کہتے سنا کہ` ام ہانی رضی الله عنہا کے دونوں بیٹوں میں سے ایک نے مجھ سے حدیث بیان کی تو میں ان دونوں میں جو سب سے افضل تھا اس سے ملا ، اس کا نام جعدہ تھا ، ام ہانی اس کی دادی تھیں ، اس نے مجھ سے بیان کیا کہ اس کی دادی کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں آئے تو آپ نے کوئی پینے کی چیز منگائی اور اسے پیا ۔ پھر آپ نے انہیں دیا تو انہوں نے بھی پیا ۔ پھر انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میں تو روزے سے تھی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نفل روزہ رکھنے والا اپنے نفس کا امین ہے ، چاہے تو روزہ رکھے اور چاہے تو نہ رکھے “ ۔ شعبہ کہتے ہیں : میں نے سماک سے پوچھا : کیا آپ نے اسے ام ہانی سے سنا ہے ؟ کہا : نہیں ، مجھے ابوصالح نے اور ہمارے گھر والوں نے خبر دی ہے اور ان لوگوں نے ام ہانی سے روایت کی ۔ حماد بن سلمہ نے بھی یہ حدیث سماک بن حرب سے روایت کی ہے ۔ اس میں ہے ام ہانی کی لڑکی کے بیٹے ہارون سے روایت ہے ، انہوں نے ام ہانی سے روایت کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- شعبہ کی روایت سب سے بہتر ہے ، اسی طرح ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ہے اور محمود نے ابوداؤد سے روایت کی ہے ، اس میں «أمين نفسه» ہے ، البتہ ابوداؤد سے محمود کے علاوہ دوسرے لوگوں نے جو روایت کی تو ان لوگوں نے «أمير نفسه أو أمين نفسه» شک کے ساتھ کہا ۔ اور اسی طرح شعبہ سے متعدد سندوں سے بھی «أمين أو أمير نفسه» شک کے ساتھ وارد ہے ۔ ام ہانی کی حدیث کی سند میں کلام ہے ۔
۲- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ نفل روزہ رکھنے والا اگر روزہ توڑ دے تو اس پر کوئی قضاء لازم نہیں الا یہ کہ وہ قضاء کرنا چاہے ۔ یہی سفیان ثوری ، احمد ، اسحاق بن راہویہ اور شافعی کا قول ہے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- شعبہ کی روایت سب سے بہتر ہے ، اسی طرح ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ہے اور محمود نے ابوداؤد سے روایت کی ہے ، اس میں «أمين نفسه» ہے ، البتہ ابوداؤد سے محمود کے علاوہ دوسرے لوگوں نے جو روایت کی تو ان لوگوں نے «أمير نفسه أو أمين نفسه» شک کے ساتھ کہا ۔ اور اسی طرح شعبہ سے متعدد سندوں سے بھی «أمين أو أمير نفسه» شک کے ساتھ وارد ہے ۔ ام ہانی کی حدیث کی سند میں کلام ہے ۔
۲- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ نفل روزہ رکھنے والا اگر روزہ توڑ دے تو اس پر کوئی قضاء لازم نہیں الا یہ کہ وہ قضاء کرنا چاہے ۔ یہی سفیان ثوری ، احمد ، اسحاق بن راہویہ اور شافعی کا قول ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہی جمہور کا قول ہے، ان کی دلیل ام ہانی کی روایت ہے جس میں ہے «فإن شئت فأقضى وإن شئت فلا تقضى» نیز ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی روایت ہے جس میں ہے «أفطر فصم مكانه إن شئت» یہ دونوں روایتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نفل روزہ توڑ دینے پر قضاء لازم نہیں، حنفیہ کہتے ہیں کہ قضاء لازم ہے، ان کی دلیل عائشہ و حفصہ رضی الله عنہما کی روایت ہے جو ایک باب کے بعد آ رہی ہے، لیکن وہ ضعیف ہے۔