حدیث نمبر: 718
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرٍ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَالصَّحِيحُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفٌ قَوْلُهُ ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْبَاب ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ ، يُصَامُ عَنِ الْمَيِّتِ ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق ، قَالَا : إِذَا كَانَ عَلَى الْمَيِّتِ نَذْرُ صِيَامٍ يَصُومُ عَنْهُ ، وَإِذَا كَانَ عَلَيْهِ قَضَاءُ رَمَضَانَ أَطْعَمَ عَنْهُ ، وقَالَ مَالِكٌ ، وَسُفْيَانُ ، وَالشَّافِعِيُّ : لَا يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ ، قَالَ : وَأَشْعَثُ هُوَ ابْنُ سَوَّارٍ ، وَمُحَمَّدٌ هُوَ عِنْدِي ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اس حالت میں مرے کہ اس پر ایک ماہ کا روزہ باقی ہو تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں ،
۲- صحیح بات یہ ہے کہ یہ ابن عمر رضی الله عنہما سے موقوف ہے یعنی انہیں کا قول ہے ،
۳- اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ میت کی طرف سے روزے رکھے جائیں گے ۔ یہ قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے ۔ یہ دونوں کہتے ہیں : جب میت پر نذر والے روزے ہوں تو اس کی طرف سے روزہ رکھا جائے گا ، اور جب اس پر رمضان کی قضاء واجب ہو تو اس کی طرف سے مسکینوں اور فقیروں کو کھانا کھلایا جائے گا ، مالک ، سفیان اور شافعی کہتے ہیں کہ کوئی کسی کی طرف سے روزہ نہیں رکھے گا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں ،
۲- صحیح بات یہ ہے کہ یہ ابن عمر رضی الله عنہما سے موقوف ہے یعنی انہیں کا قول ہے ،
۳- اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ میت کی طرف سے روزے رکھے جائیں گے ۔ یہ قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے ۔ یہ دونوں کہتے ہیں : جب میت پر نذر والے روزے ہوں تو اس کی طرف سے روزہ رکھا جائے گا ، اور جب اس پر رمضان کی قضاء واجب ہو تو اس کی طرف سے مسکینوں اور فقیروں کو کھانا کھلایا جائے گا ، مالک ، سفیان اور شافعی کہتے ہیں کہ کوئی کسی کی طرف سے روزہ نہیں رکھے گا ۔