حدیث نمبر: 703
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ : " تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ " ، قَالَ : قُلْتُ : كَمْ كَانَ قَدْرُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی ، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، انس کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا : اس کی مقدار کتنی تھی ؟ ۱؎ انہوں نے کہا : پچاس آیتوں کے ( پڑھنے کے ) بقدر ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ان دونوں کے بیچ میں کتنا وقفہ تھا۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ سحری بالکل آخری وقت میں کھائی جائے، یہی مسنون طریقہ ہے تاہم صبح صادق سے پہلے کھا لی جائے اور یہ وقفہ پچاس آیتوں کے پڑھنے کے بقدر ہو۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ سحری بالکل آخری وقت میں کھائی جائے، یہی مسنون طریقہ ہے تاہم صبح صادق سے پہلے کھا لی جائے اور یہ وقفہ پچاس آیتوں کے پڑھنے کے بقدر ہو۔
حدیث نمبر: 704
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ حُذَيْفَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ ، وَأَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق : اسْتَحَبُّوا تَأْخِيرَ السُّحُورِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` ہشام سے اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں یوں ہے : پچاس آیتوں کے پڑھنے کے بقدر ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں حذیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ،
۳- یہی شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ، ان لوگوں نے سحری میں دیر کرنے کو پسند کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں حذیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ،
۳- یہی شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ، ان لوگوں نے سحری میں دیر کرنے کو پسند کیا ہے ۔