حدیث نمبر: 688
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصُومُوا قَبْلَ رَمَضَانَ ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ حَالَتْ دُونَهُ غَيَايَةٌ فَأَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا " . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي بَكْرَةَ ، وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمضان سے پہلے ۱؎ روزہ نہ رکھو ، چاند دیکھ کر روزہ رکھو ، اور دیکھ کر ہی بند کرو ، اور اگر بادل آڑے آ جائے تو مہینے کے تیس دن پورے کرو “ ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے اور کئی سندوں سے یہ حدیث روایت کی گئی ہے ۔
۲- اس باب میں ابوہریرہ ، ابوبکرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے اور کئی سندوں سے یہ حدیث روایت کی گئی ہے ۔
۲- اس باب میں ابوہریرہ ، ابوبکرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: ”رمضان سے پہلے“ سے مراد شعبان کا دوسرا نصف ہے، مطلب یہ ہے کہ ۱۵ شعبان کے بعد نفلی روزے نہ رکھے جائیں تاکہ رمضان کے فرض روزوں کے لیے اس کی قوت و توانائی برقرار رہے۔
۲؎ یعنی بادل کی وجہ سے مطلع صاف نہ ہو اور ۲۹ شعبان کو چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کر کے رمضان کے روزے شروع کئے جائیں، اسی طرح اگر ۲۹ رمضان کو چاند نظر نہ آئے تو رمضان کے تیس روزے پورے کر کے عید الفطر منائی جائے۔
۲؎ یعنی بادل کی وجہ سے مطلع صاف نہ ہو اور ۲۹ شعبان کو چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کر کے رمضان کے روزے شروع کئے جائیں، اسی طرح اگر ۲۹ رمضان کو چاند نظر نہ آئے تو رمضان کے تیس روزے پورے کر کے عید الفطر منائی جائے۔