کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک مسجد میں بیٹھنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 585
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر پڑھتے تو اپنے مصلے پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / أبواب السفر / حدیث: 585
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (1171)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/المساجد 52 (286) ، والفضائل 17 (2322) ، سنن ابی داود/ الصلاة 301 (1294) ، سنن النسائی/السہو 99 (1358) ، ( تحفة الأشراف : 2168) ، مسند احمد (5/91، 97، 100) (صحیح)»
حدیث نمبر: 586
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ظِلَالٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ فِي جَمَاعَةٍ ثُمَّ قَعَدَ يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَتْ لَهُ كَأَجْرِ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ " قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَامَّةٍ تَامَّةٍ تَامَّةٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، قَالَ : وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَبِي ظِلَالٍ ، فَقَالَ : هُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَاسْمُهُ هِلَالٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے نماز فجر جماعت سے پڑھی پھر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ سورج نکل گیا ، پھر اس نے دو رکعتیں پڑھیں ، تو اسے ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب ملے گا “ ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پورا ، پورا ، پورا ، یعنی حج و عمرے کا پورا ثواب “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے ( سند میں موجود راوی ) ابوظلال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : وہ مقارب الحدیث ہیں ، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ان کا نام ہلال ہے ۔
وضاحت:
۱؎: آج امت محمدیہ «على صاحبها الصلاة والسلام» کے تمام ائمہ اور اس کے سب مقتدی اس اجر عظیم اور اول النہار کی برکتوں سے کس قدر محروم ہیں، ذرا اس حدیث سے اندازہ لگائیے۔ «إلاما شاء الله اللهم اجعلنا منهم»
حوالہ حدیث سنن ترمذي / أبواب السفر / حدیث: 586
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، التعليق الرغيب (1 / 164 و 165) ، المشكاة (971) , شیخ زبیر علی زئی: (586) إسناده ضعيف, أبو ظلال ھلال بن أبى ھلال ضعيف (تق:7349) وقال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 384/10) وقال : والأكثر على تضعيفه (أيضاً 36/1ٌ) وللحديث شواھد ضعيفة في مجمع الزوائد (106/10) والترغيب (166/1 ) وغيرھما
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 1644) (حسن)»