حدیث نمبر: 568
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ : " سَجَدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً مِنْهَا الَّتِي فِي النَّجْمِ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے ۔ ان میں سے ایک وہ تھا جو سورۂ نجم میں ہے ۔
حدیث نمبر: 569
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عُمَرَ وَهُوَ ابْنُ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيُّ قَال : سَمِعْتُ مُخْبِرًا يُخْبِرُ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِلَفْظِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ وَكِيعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح انہیں الفاظ کے ساتھ روایت کرتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ سفیان بن وکیع کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے انہوں نے عبداللہ بن وہب سے روایت کی ہے ۱؎ ،
۲- اس باب میں علی ، ابن عباس ، ابوہریرہ ، ابن مسعود ، زید بن ثابت اور عمرو بن العاص رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- ابو الدرداء کی حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف سعید بن ابی ہلال کی روایت سے جانتے ہیں ، اور سعید نے عمر دمشقی سے روایت کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ سفیان بن وکیع کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے انہوں نے عبداللہ بن وہب سے روایت کی ہے ۱؎ ،
۲- اس باب میں علی ، ابن عباس ، ابوہریرہ ، ابن مسعود ، زید بن ثابت اور عمرو بن العاص رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- ابو الدرداء کی حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف سعید بن ابی ہلال کی روایت سے جانتے ہیں ، اور سعید نے عمر دمشقی سے روایت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی عبداللہ بن عبدالرحمٰن کی حدیث سفیان بن وکیع کی حدیث کے مقابلے میں زیادہ راجح ہے کیونکہ اس کا ضعف سفیان کی حدیث کے ضعف سے ہلکا ہے سفیان بن وکیع متکلم فیہ ہیں۔