کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: جمعہ کے دن (دوران خطبہ) لوگوں کی گردنیں پھاندنے کی کراہت۔
حدیث نمبر: 513
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ اتَّخَذَ جِسْرًا إِلَى جَهَنَّمَ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا أَنْ يَتَخَطَّى الرَّجُلُ رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَشَدَّدُوا فِي ذَلِكَ ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ وَضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ کے دن جس نے لوگوں کی گردنیں پھاندیں اس نے جہنم کی طرف لے جانے والا پل بنا لیا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے ۔ سہل بن معاذ بن انس جہنی کی حدیث غریب ہے ، اسے ہم صرف رشد بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- البتہ اہل علم کا عمل اسی پر ہے ۔ انہوں نے اس بات کو مکروہ سمجھا ہے ، کہ آدمی جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندے اور انہوں نے اس میں سختی سے کام لیا ہے ۔ اور ان کے حفظ کے تعلق سے انہیں ضعیف گردانا ہے ۔ بعض اہل علم نے رشدین بن سعد پر کلام کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ ترجمہ «اتّخَذَ» معروف کے صیغے کا ہے مشہور اعراب مجہول کے صیغے «اتُّخِذَ» کے ساتھ ہے، اس صورت میں ترجمہ یوں ہو گا کہ جو جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندے گا وہ جہنم کا پل بنا دیا جائے گا جس پر چڑھ کر لوگ جہنم کو عبور کریں گے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 513
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (1116) // ضعيف سنن ابن ماجة (230) ، المشكاة (1392) ، ضعيف الجامع الصغير (5516) // , شیخ زبیر علی زئی: (513) إسناده ضعيف /جه 1116, رشدين : ضعيف (تقدم:54) وزبان بن فائد: ضعيف (د 1287)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الإقامة 88 (1116) ، ( تحفة الأشراف : 11292) ، مسند احمد (3/437) (حسن) (سند میں رشدین بن سعد اور زبان بن فائد دونوں ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے حسن لغیرہ ہے، تراجع الالبانی45، السراج المنیر 1512، والصحیحہ 3122)»