کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: جمعہ میں کتنی دوری سے آیا جائے؟
حدیث نمبر: 501
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْهِ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ قُبَاءَ ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْهَدَ الْجُمُعَةَ مِنْ قُبَاءَ ". وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا وَلَا يَصِحُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْجُمُعَةُ عَلَى مَنْ آوَاهُ اللَّيْلُ إِلَى أَهْلِهِ " . وَهَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ ، إِنَّمَا يُرْوَى مِنْ حَدِيثِ مُعَارِكِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، وَضَعَّفَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ فِي الْحَدِيثِ . فَقَالَ : وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ عَلَى مَنْ تَجِبُ الْجُمُعَةُ ، قَالَ بَعْضُهُمْ : تَجِبُ الْجُمُعَةُ عَلَى مَنْ آوَاهُ اللَّيْلُ إِلَى مَنْزِلِهِ ، وقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا تَجِبُ الْجُمُعَةُ إِلَّا عَلَى مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ ، وَأَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اہل قباء میں سے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتا ہے - اس کے والد صحابہ میں سے ہیں - وہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم قباء سے آ کر جمعہ میں شریک ہوں ۔ اس سلسلے میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، لیکن یہ صحیح نہیں ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، اور اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی کوئی چیز صحیح نہیں ہے ،
۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ اس پر فرض ہے جو رات کو اپنے گھر والوں تک پہنچ سکے “ ، اس حدیث کی سند ضعیف ہے ، یہ حدیث معارک بن عباد سے روایت کی جاتی ہے اور معارک عبداللہ بن سعید مقبری سے روایت کرتے ہیں ، یحییٰ بن سعید قطان نے عبداللہ بن سعید مقبری کی حدیث کی تضعیف کی ہے ،
۳- اہل علم کا اس میں اختلاف ہے کہ جمعہ کس پر واجب ہے ، بعض کہتے ہیں : جمعہ اس شخص پر واجب ہے جو رات کو اپنے گھر پہنچ سکے اور بعض کہتے ہیں : جمعہ صرف اسی پر واجب جس نے اذان سنی ہو ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 501
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: (501) إسناده ضعيف, ثوير:ضعيف ، رمي بالرفض (تق: 862) وشيخه رجل من أهل قباء :مجھول
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 1569) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی ’’ رجل من اھل قباء ‘‘ مبہم ہے)»
حدیث نمبر: 502
سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ ، يَقُولُ : كُنَّا عِنْدَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَذَكَرُوا عَلَى مَنْ تَجِبُ الْجُمُعَةُ ، فَلَمْ يَذْكُرْ أَحْمَدُ فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا . قَالَ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ : فَقُلْتُ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فِيهِ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَحْمَدُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُعَارِكُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْجُمُعَةُ عَلَى مَنْ آوَاهُ اللَّيْلُ إِلَى أَهْلِهِ " . قَالَ : فَغَضِبَ عَلَيَّ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَقَالَ لِي : اسْتَغْفِرْ ، رَبَّكَ اسْتَغْفِرْ رَبَّكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : إِنَّمَا فَعَلَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ هَذَا لِأَنَّهُ لَمْ يَعُدَّ هَذَا الْحَدِيثَ شَيْئًا ، وَضَعَّفَهُ لِحَالِ إِسْنَادِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´میں نے احمد بن حسن کو کہتے سنا کہ` ہم لوگ احمد بن حنبل کے پاس تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ جمعہ کس پر واجب ہے ؟ تو امام احمد نے اس سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز ذکر نہیں کی ، احمد بن حسن کہتے ہیں : تو میں نے احمد بن حنبل سے کہا : اس سلسلہ میں ابوہریرہ رضی الله عنہ کی روایت ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، تو امام احمد نے پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ؟ میں نے کہا : ہاں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ) ، پھر احمد بن حسن نے «حجاج بن نصير حدثنا معارك بن عباد عن عبد الله بن سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” جمعہ اس پر واجب ہے جو رات کو اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر آ سکے “ ، احمد بن حسن کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل مجھ پر غصہ ہوئے اور مجھ سے کہا : اپنے رب سے استغفار کرو ، اپنے رب سے استغفار کرو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
احمد بن حنبل نے ایسا اس لیے کیا کہ انہوں نے اس حدیث کو کوئی حیثیت نہیں دی اور اسے کسی شمار میں نہیں رکھا ، سند کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 502
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا، المشكاة (1386) // ضعيف الجامع الصغير (2661) // , شیخ زبیر علی زئی: (502) إسناده ضعيف جدًا, حجاج بن نصير ضعيف، كان يقبل التلقين (وقال الھيثمي :وقد ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 84/10) ومعارك بن عباد : ضعيف و عبدالله بن سعيد المقبري: متروك (تق:1139 6743 ،3356)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 12965) (ضعیف جداً) (اس کے تین راوی ضعیف ہیں: عبداللہ بن سعید متروک، اور حجاج بن نصیر اور معارک دونوں ضعیف ہیں)»