کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: وتر سے پہلے سونے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 455
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي عَزَّةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي ثَوْرٍ الْأَزْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ " . قَالَ عِيسَى بْنُ أَبِي عَزَّةَ : وَكَانَ الشَّعْبِيُّ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنَامُ . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَأَبُو ثَوْرٍ الْأَزْدِيُّ اسْمُهُ : حَبِيبُ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، وَقَدِ اخْتَارَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ أَنْ لَا يَنَامَ الرَّجُلُ حَتَّى يُوتِرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں وتر سونے سے پہلے پڑھ لیا کروں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ،
۲- اس باب میں ابوذر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ،
۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ آدمی جب تک وتر نہ پڑھ لے نہ سوئے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / أبواب الوتر​ / حدیث: 455
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: (حديث أبو هريرة) صحيح، (حديث جابر) صحيح (حديث أبو هريرة) ، صحيح أبي داود (1187) ، (حديث جابر) ، ابن ماجة (1187)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 14871) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ ابو ثور ازدی لین الحدیث ہیں، ملاحظہ ہو صحیح سنن ابی داود: 1187)»
حدیث نمبر: 455M
وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ خَشِيَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِهِ ، وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ وَهِيَ أَفْضَلُ " . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَنَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جسے اندیشہ ہو کہ وہ رات کے آخری پہر میں نہیں اٹھ سکے گا ، تو وہ رات کے شروع میں ہی وتر پڑھ لے ۔ اور جو رات کے آخری حصہ میں اٹھنے کی امید رکھتا ہو تو وہ رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے ، کیونکہ رات کے آخری حصے میں قرآن پڑھنے پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں ، یہ افضل وقت ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / أبواب الوتر​ / حدیث: 455M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: (حديث أبو هريرة) صحيح، (حديث جابر) صحيح (حديث أبو هريرة) ، صحيح أبي داود (1187) ، (حديث جابر) ، ابن ماجة (1187)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/المسافرین 21 (755) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة 120 (1187) ، ( تحفة الأشراف : 2297) ، مسند احمد (3/315، 337) (صحیح)»