حدیث نمبر: 417
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ وَأَبُو عَمَّارٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : " رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا فَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ بِ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَأَنَسٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَحَفْصَةَ ، وَعَائِشَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَلَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ ، وَالْمَعْرُوفُ عِنْدَ النَّاسِ حَدِيثُ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، وَقَدْ رَوَى عَنْ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا ، وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ثِقَةٌ . حَافِظٌ ، قَالَ : سَمِعْت بُنْدَارًا ، يَقُولُ : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ حِفْظًا مِنْ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ ، وَأَبُو أَحْمَدَ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْكُوفِيُّ الْأَسَدِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو ایک مہینے تک دیکھتا رہا ، فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں آپ «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے ،
۲- اور ہم ثوری کی روایت کو جسے انہوں نے ابواسحاق سے روایت کی ہے صرف ابواحمد زبیری ہی کے طریق سے جانتے ہیں ، ( جب کہ ) لوگوں ( محدثین ) کے نزدیک معروف «عن إسرائيل عن أبي إسحاق» ہے بجائے «سفیان ابی اسحاق» کے ،
۳- اور ابواحمد زبیری کے واسطہ سے بھی اسرائیل سے روایت کی گئی ہے ،
۴- ابواحمد زبیری ثقہ اور حافظ ہیں ، میں نے بندار کو کہتے سنا ہے کہ میں نے ابواحمد زبیری سے زیادہ اچھے حافظے والا نہیں دیکھا ، ابواحمد کا نام محمد بن عبداللہ بن زبیر کوفی اسدی ہے ،
۵- اس باب میں ابن مسعود ، انس ، ابوہریرہ ، ابن عباس ، حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے ،
۲- اور ہم ثوری کی روایت کو جسے انہوں نے ابواسحاق سے روایت کی ہے صرف ابواحمد زبیری ہی کے طریق سے جانتے ہیں ، ( جب کہ ) لوگوں ( محدثین ) کے نزدیک معروف «عن إسرائيل عن أبي إسحاق» ہے بجائے «سفیان ابی اسحاق» کے ،
۳- اور ابواحمد زبیری کے واسطہ سے بھی اسرائیل سے روایت کی گئی ہے ،
۴- ابواحمد زبیری ثقہ اور حافظ ہیں ، میں نے بندار کو کہتے سنا ہے کہ میں نے ابواحمد زبیری سے زیادہ اچھے حافظے والا نہیں دیکھا ، ابواحمد کا نام محمد بن عبداللہ بن زبیر کوفی اسدی ہے ،
۵- اس باب میں ابن مسعود ، انس ، ابوہریرہ ، ابن عباس ، حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔