حدیث نمبر: 410
حَدَّثَنَا وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ الْبَصْرِيُّ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْأَغْنِيَاءَ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَلَهُمْ أَمْوَالٌ يُعْتِقُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ ، قَالَ : " فَإِذَا صَلَّيْتُمْ فَقُولُوا : سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَشْرَ مَرَّاتٍ ، فَإِنَّكُمْ تُدْرِكُونَ بِهِ مَنْ سَبَقَكُمْ وَلَا يَسْبِقُكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ " قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ , وَأَنَسٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ , وَأَبِي الدَّرْدَاءِ , وَابْنِ عُمَرَ , وَأَبِي ذَرٍّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَفِي الْبَاب أَيْضًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَالْمُغِيرَةِ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " خَصْلَتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ : يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا ، وَيَحْمَدُهُ عَشْرًا ، وَيُكَبِّرُهُ عَشْرًا ، وَيُسَبِّحُ اللَّهَ عِنْدَ مَنَامِهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَيَحْمَدُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَيُكَبِّرُهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس کچھ فقیر و محتاج لوگ آئے اور کہا : اللہ کے رسول ! مالدار نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں وہ روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں ۔ ان کے پاس مال بھی ہے ، اس سے وہ غلام آزاد کرتے اور صدقہ دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” جب تم نماز پڑھ چکو تو تینتیس مرتبہ ” سبحان اللہ “ ، تینتیس مرتبہ ” الحمد لله “ اور تینتیس مرتبہ ” الله أكبر “ اور دس مرتبہ ” لا إله إلا الله “ کہہ لیا کرو ، تو تم ان لوگوں کو پا لو گے جو تم پر سبقت لے گئے ہیں ، اور جو تم سے پیچھے ہیں وہ تم پر سبقت نہ لے جا سکیں گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے ،
۲- اس باب میں کعب بن عجرہ ، انس ، عبداللہ بن عمرو ، زید بن ثابت ، ابو الدرداء ، ابن عمر اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، نیز اس باب میں ابوہریرہ اور مغیرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” دو عادتیں ہیں جنہیں جو بھی مسلمان آدمی بجا لائے گا جنت میں داخل ہو گا ۔ ایک یہ کہ وہ ہر نماز کے بعد دس بار ” سبحان الله “ ، دس بار ” الحمد لله “ ، دس بار ” الله أكبر “ کہے ، دوسرے یہ کہ وہ اپنے سوتے وقت تینتیس مرتبہ ” سبحان الله “ ، تینتیس مرتبہ ” الحمد لله “ اور چونتیس مرتبہ ” الله أكبر “ کہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے ،
۲- اس باب میں کعب بن عجرہ ، انس ، عبداللہ بن عمرو ، زید بن ثابت ، ابو الدرداء ، ابن عمر اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، نیز اس باب میں ابوہریرہ اور مغیرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” دو عادتیں ہیں جنہیں جو بھی مسلمان آدمی بجا لائے گا جنت میں داخل ہو گا ۔ ایک یہ کہ وہ ہر نماز کے بعد دس بار ” سبحان الله “ ، دس بار ” الحمد لله “ ، دس بار ” الله أكبر “ کہے ، دوسرے یہ کہ وہ اپنے سوتے وقت تینتیس مرتبہ ” سبحان الله “ ، تینتیس مرتبہ ” الحمد لله “ اور چونتیس مرتبہ ” الله أكبر “ کہے ۔