حدیث نمبر: 407
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلِّمُوا الصَّبِيَّ الصَّلَاةَ ابْنَ سَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُ عَلَيْهَا ابْنَ عَشْرٍ " قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق ، وَقَالَا : مَا تَرَكَ الْغُلَامُ بَعْدَ الْعَشْرِ مِنَ الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ يُعِيدُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَسَبْرَةُ هُوَ ابْنُ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيُّ ، وَيُقَالُ هُوَ : ابْنُ عَوْسَجَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سبرہ بن معبد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” سات برس کے بچے کو نماز سکھاؤ ، اور دس برس کے بچے کو نماز نہ پڑھنے پر مارو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- سبرہ بن معبد جہنی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ،
۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ ” جو لڑکا دس برس کے ہو جانے کے بعد نماز چھوڑے وہ اس کی قضاء کرے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- سبرہ بن معبد جہنی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ،
۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ ” جو لڑکا دس برس کے ہو جانے کے بعد نماز چھوڑے وہ اس کی قضاء کرے “ ۔