کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: پے در پے ملا کر روزہ رکھنا اور جنہوں نے یہ کہا کہ رات میں روزہ نہیں ہو سکتا۔
حدیث نمبر: Q1961
لِقَوْلِهِ تَعَالَى : ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ سورة البقرة آية 187 ، وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ ، رَحْمَةً لَهُمْ وَإِبْقَاءً عَلَيْهِمْ ، وَمَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ ( ابوالعالیہ ) تابعی سے ایسا منقول ہے انہوں نے کہا اللہ نے فرمایا روزہ رات تک پورا کرو ( جب رات آئی تو روزہ کھل گیا یہ ابن ابی شیبہ نے نکالا ) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ البقرہ میں ) فرمایا ” پھر تم روزہ رات تک پورا کرو ۔ “ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے ( اللہ تعالیٰ کے حکم سے ) منع فرمایا ، امت پر رحمت اور شفقت کے خیال سے تاکہ ان کی طاقت قائم رہے ، اور یہ کہ عبادت میں سختی کرنا مکروہ ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصوم / حدیث: Q1961
حدیث نمبر: 1961
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُوَاصِلُوا ، قَالُوا : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى ، أَوْ إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، کہا کہ مجھ سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( بلا سحر و افطار ) پے در پے روزے نہ رکھا کرو ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں ۔ مجھے ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) کھلایا اور پلایا جاتا ہے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) میں اس طرح رات گزارتا ہوں کہ مجھے کھلایا اور پلایا جاتا رہتا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصوم / حدیث: 1961
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1962
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ " ، قَالُوا : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ تو وصال کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصوم / حدیث: 1962
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1963
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّاب ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تُوَاصِلُوا ، فَأَيُّكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ فَلْيُوَاصِلْ حَتَّى السَّحَرِ " ، قَالُوا : فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أَبِيتُ لِي مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي وَسَاقٍ يَسْقِينِ .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ہاد نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن خباب نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلسل ( بلاسحری و افطاری ) روزے نہ رکھو ، ہاں اگر کوئی ایسا کرنا ہی چاہے تو وہ سحری کے وقت تک ایسا کر سکتا ہے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ تو ایسا کرتے ہیں ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں ۔ میں تو رات اس طرح گزارتا ہوں کہ ایک کھلانے والا مجھے کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا مجھے پلاتا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصوم / حدیث: 1963
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1964
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدٌ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَهُمْ " ، فَقَالُوا : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : لَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانُ رَحْمَةً لَهُمْ .
مولانا داود راز
´ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو عبدہ نے خبر دی ، انہیں ہشام بن عروہ نے ، انہیں ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پے در پے روزہ سے منع کیا تھا ۔ امت پر رحمت و شفقت کے خیال سے ، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے ۔ عثمان نے ( اپنی روایت میں ) ” امت پر رحمت و شفقت کے خیال سے “ کے الفاظ ذکر نہیں کئے ہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصوم / حدیث: 1964
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة