کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: روزہ دار کا غسل کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: Q1929
وَبَلَّ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَوْبًا ، فَأَلْقَاهُ عَلَيْهِ وَهُوَ صَائِمٌ ، وَدَخَلَ الشَّعْبِيُّ الْحَمَّامَ وَهُوَ صَائِمٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَا بَأْسَ أَنْ يَتَطَعَّمَ الْقِدْرَ أَوِ الشَّيْءَ ، وَقَالَ الْحَسَنُ : لَا بَأْسَ بِالْمَضْمَضَةِ وَالتَّبَرُّدِ لِلصَّائِمِ " ، وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلْيُصْبِحْ دَهِينًا مُتَرَجِّلًا ، وَقَالَ أَنَسٌ : إِنَّ لِي أَبْزَنَ أَتَقَحَّمُ فِيهِ وَأَنَا صَائِمٌ ، وَيُذْكَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اسْتَاكَ وَهُوَ صَائِمٌ ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : يَسْتَاكُ أَوَّلَ النَّهَارِ وَآخِرَهُ وَلَا يَبْلَعُ رِيقَهُ ، وَقَالَ عَطَاءٌ : إِنِ ازْدَرَدَ رِيقَهُ لَا أَقُولُ يُفْطِرُ ، وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ : لَا بَأْسَ بِالسِّوَاكِ الرَّطْبِ ، قِيلَ : لَهُ طَعْمٌ ، قَالَ : وَالْمَاءُ لَهُ طَعْمٌ وَأَنْتَ تُمَضْمِضُ بِهِ ، وَلَمْ يَرَ أَنَسٌ وَالْحَسَنُ ، وَإِبْرَاهِيمُ بِالْكُحْلِ لِلصَّائِمِ بَأْسًا .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک کپڑا تر کر کے اپنے جسم میں ڈالا حالانکہ وہ روزے سے تھے اور شعبی روزے سے تھے لیکن حمام میں ( غسل کے لیے ) گئے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہانڈی یا کسی چیز کا مزہ معلوم کرنے میں ( زبان پر رکھ کر ) کوئی حرج نہیں ۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ روزہ دار کے لیے کلی کرنے اور ٹھنڈا حاصل کرنے میں کوئی قباحت نہیں اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب کسی کو روزہ رکھنا ہو تو وہ صبح کو اس طرح اٹھے کہ تیل لگا ہوا ہو اور کنگھا کیا ہو اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرا ایک «ابزن» ( حوض پتھر کا بنا ہوا ) ہے جس میں میں روزے سے ہونے کے باوجود غوطے مارتا ہوں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ میں مسواک کی اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ دن میں صبح اور شام ( ہر وقت ) مسواک کیا کرتے اور روزہ دار تھوک نہ نگلے اور عطاء رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر تھوک نکل گیا تو میں یہ نہیں کہتا کہ اس کا روزہ ٹوٹ گیا اور ابن سیرین رحمہ اللہ نے کہا کہ تر مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کسی نے کہا کہ اس میں جو ایک مزا ہوتا ہے اس پر آپ نے کہا کیا پانی میں مزا نہیں ہوتا ؟ حالانکہ اس سے کلی کرتے ہو ۔ انس ، حسن اور ابراہیم نے کہا کہ روزہ دار کے لیے سرمہ لگانا درست ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصوم / حدیث: Q1929
حدیث نمبر: 1930
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ فِي رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ حُلْمٍ ، فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، ان سے یونس نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ اور ابوبکر نے کہ` عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا رمضان میں فجر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احتلام سے نہیں ( بلکہ اپنی ازواج کے ساتھ صحبت کرنے کی وجہ سے ) غسل کرتے اور روزہ رکھتے تھے ۔ ( معلوم ہوا کہ غسل جنابت روزہ دار فجر کے بعد کر سکتا ہے ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصوم / حدیث: 1930
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1931
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بنِ الحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ المُغِيرَةِ ، أَنَّهُ سَمِعَ بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : " كُنْتُ أَنَا وَأَبِي فَذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ ، غَيْرِ احْتِلَامٍ ، ثُمَّ يَصُومُهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام بن مغیرہ کے غلام سمی نے ، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` میرے باپ عبدالرحمٰن مجھے ساتھ لے کر عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح جنبی ہونے کی حالت میں کرتے احتلام کی وجہ سے نہیں بلکہ جماع کی وجہ سے ! پھر آپ روزے سے رہتے ( یعنی غسل فجر کی نماز سے پہلے سحری کا وقت نکل جانے کے بعد کرتے ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصوم / حدیث: 1931
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1932
ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ : مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اس کے بعد ہم ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اسی طرح حدیث بیان کی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصوم / حدیث: 1932
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة