حدیث نمبر: 306
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَلَاقَةَ، عَنْ عَمِّهِ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ , وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ , وَأَبِي بَرْزَةَ , وَأُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " قَرَأَ فِي الصُّبْحِ ب : الْوَاقِعَةِ " وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ " يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ مِنْ سِتِّينَ آيَةً إِلَى مِائَةٍ " وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ " قَرَأَ : إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ " وَرُوِي عَنْ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى ، أَنِ اقْرَأْ فِي الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَعَلَى هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَبِهِ قَالَ : سفيان الثوري , وَابْنُ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قطبہ بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فجر میں پہلی رکعت میں «والنخل باسقات» پڑھتے سنا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- قطبہ بن مالک کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عمرو بن حریث ، جابر بن سمرہ ، عبداللہ بن سائب ، ابوبرزہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فجر میں سورۃ الواقعہ پڑھی ،
۴- یہ بھی مروی ہے کہ آپ فجر میں ساٹھ سے لے کر سو آیتیں پڑھا کرتے تھے ،
۵- اور یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے «إذا الشمس كورت» پڑھی ،
۶- اور عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ فجر میں طوال مفصل پڑھا کرو ۱؎ ،
۷- اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی سفیان ثوری ، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- قطبہ بن مالک کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عمرو بن حریث ، جابر بن سمرہ ، عبداللہ بن سائب ، ابوبرزہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فجر میں سورۃ الواقعہ پڑھی ،
۴- یہ بھی مروی ہے کہ آپ فجر میں ساٹھ سے لے کر سو آیتیں پڑھا کرتے تھے ،
۵- اور یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے «إذا الشمس كورت» پڑھی ،
۶- اور عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ فجر میں طوال مفصل پڑھا کرو ۱؎ ،
۷- اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی سفیان ثوری ، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے مراد سورۃ ق ہے۔
۲؎: مفصل: قرآن کا آخری ساتواں حصہ ہے جو صحیح قول کے مطابق سورۃ قؔ سے شروع ہوتا ہے اور سورۃ البروج پر ختم ہوتا ہے۔
۲؎: مفصل: قرآن کا آخری ساتواں حصہ ہے جو صحیح قول کے مطابق سورۃ قؔ سے شروع ہوتا ہے اور سورۃ البروج پر ختم ہوتا ہے۔