حدیث نمبر: 287
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْثِيِّ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فَكَانَ إِذَا كَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَبِهِ يَقُولُ : إِسْحَاق وَبَعْضُ أَصْحَابِنَا ، وَمَالِكٌ يُكْنَى أَبَا سُلَيْمَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابواسحاق مالک بن حویرث لیثی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ، آپ کی نماز اس طرح سے تھی کہ جب آپ طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک کہ آپ اچھی طرح بیٹھ نہ جاتے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- مالک بن حویرث کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ اور یہی اسحاق بن راہویہ اور ہمارے بعض اصحاب بھی کہتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- مالک بن حویرث کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ اور یہی اسحاق بن راہویہ اور ہمارے بعض اصحاب بھی کہتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس بیٹھک کا نام جلسہ استراحت ہے، یہ حدیث جلسہ استراحت کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہے، جو لوگ جلسہ استراحت کی سنت کے قائل نہیں ہیں انہوں نے اس حدیث کی مختلف تاویلیں کی ہیں، لیکن یہ ایسی تاویلات ہیں جو قطعاً لائق التفات نہیں، نیز قدموں کے سہارے بغیر بیٹھے اٹھنے کی حدیث ضعیف ہے جو آگے آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصلاة / حدیث: 287
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (2 / 82 - 83) ، صفة الصلاة // 136 //
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الأذان 45 (677) ، و127 (803) ، و142 (823) ، و143 (824) ، سنن ابی داود/ الصلاة 182 (842، 843، 844) ، ( تحفة الأشراف : 11183) (صحیح)»