مرکزی مواد پر جائیں
15 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: سجدے میں ٹیک لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 286
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : اشْتَكَى بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ إِذَا تَفَرَّجُوا ، فَقَالَ : " اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا ، وَكَأَنَّ رِوَايَةَ هَؤُلَاءِ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ اللَّيْثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` بعض صحابہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدے میں دونوں ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے اور پیٹ کو ران سے جدا رکھنے کی صورت میں ( تکلیف کی ) شکایت کی ، تو آپ نے فرمایا : گھٹنوں سے ( ان پر ٹیک لگا کر ) مدد لے لیا کرو ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم سے ابوصالح کی حدیث جسے انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے صرف اسی طریق سے ( یعنی لیث عن ابن عجلان کے طریق سے ) جانتے ہیں اور سفیان بن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث بطریق : «سمى عن النعمان بن أبي عياش عن النبي صلى الله عليه وسلم» ( اسی طرح ) روایت کی ہے ، ان لوگوں کی روایت لیث کی روایت کے مقابلے میں شاید زیادہ صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی کہنیاں گھٹنوں پر رکھ لیا کرو تاکہ تکلیف کم ہو۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصلاة / حدیث: 286
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ضعيف أبي داود (160) // عندنا في " ضعيف أبي داود " برقم (192 / 902) // , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف / د 902
حدیث تخریج «سنن ابی داود/ الصلاة 159 (902) ، ( تحفة الأشراف : 12580) ، مسند احمد (2/340) (ضعیف) (محمد بن عجلان کی اس روایت کو ان سے زیادہ ثقہ اور معتبر رواة نے مرسلاً ذکر کیا ہے، اور ابوہریرہ کا تذکرہ نہیں کیا، اس لیے ان کی یہ روایت ضعیف ہے، دیکھئے: ضعیف سنن ابی داود: ج9/رقم: 832)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔