مرکزی مواد پر جائیں
15 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: سجدے میں دونوں ہاتھ سے پہلے دونوں گھٹنے رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 268
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ يَضَعُ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ ، وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ " . زَادَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ : وَلَمْ يَرْوَ شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاهُ مِثْلَ هَذَا عَنْ شَرِيكٍ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ : يَرَوْنَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ ، وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ . وَرَوَى هَمَّامٌ عَنْ عَاصِمٍ هَذَا مُرْسَلًا ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا : جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں گھٹنے اپنے دونوں ہاتھ سے پہلے رکھتے ، اور جب اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے تھے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے شریک سے اس طرح روایت کیا ہو ،
۲- اکثر ہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے ، ان کی رائے ہے کہ آدمی اپنے دونوں گھٹنے اپنے دونوں ہاتھوں سے پہلے رکھے اور جب اٹھے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اٹھائے ،
۳- ہمام نے عاصم ۲؎ سے اسے مرسلاً روایت کیا ہے ۔ اس میں انہوں نے وائل بن حجر کا ذکر نہیں کیا ۔
وضاحت:
۱؎: جو لوگ دونوں ہاتھوں سے پہلے دونوں گھٹنوں کے رکھنے کے قائل ہیں انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے، شریک عاصم بن کلیب سے روایت کرنے میں منفرد ہیں جب کہ شریک خود ضعیف ہیں، اگرچہ اس روایت کو ہمام بن یحییٰ نے بھی دو طریق سے ایک محمد بن حجاوہ کے طریق سے اور دوسرے شقیق کے طریق سے روایت کی ہے لیکن محمد بن حجادہ والی سند منقطع ہے کیونکہ عبدالجبار کا سماع اپنے باپ سے نہیں ہے اور شقیق کی سند بھی ضعیف ہے کیونکہ وہ خود مجہول ہیں۔
۲؎: ہمام نے اسے عاصم سے نہیں بلکہ شقیق سے روایت کیا ہے اور شقیق نے عاصم سے مرسلاً روایت کیا ہے گویا شقیق والی سند میں دو عیب ہیں: ایک شقیق خود مجہول ہیں اور دوسرا عیب یہ ہے کہ یہ مرسل ہے اس میں وائل بن حجر رضی الله عنہ کا ذکر نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصلاة / حدیث: 268
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (882) // ضعيف سنن ابن ماجة (185) ، ضعيف أبي داود (181 / 838) ، الإرواء (357) ، المشكاة (898) ، ابن خزيمة (626 و 629) // , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف / د 838 ، ن 109 ، جه 882
حدیث تخریج «سنن ابی داود/ الصلاة 141 (838) ، سنن النسائی/التطبیق 38 (1090) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة 19 (882) ، و93 (1155) ، ( تحفة الأشراف : 1178) (ضعیف) (شریک جب متفرد ہوں تو ان کی روایت مقبول نہیں ہوتی)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔