کتب حدیث ›
سنن ترمذي › ابواب
› باب: آدمی اکیلا نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ساتھ صرف ایک آدمی ہو تو مقتدی کہاں کھڑا ہو؟
حدیث نمبر: 232
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ : " فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِي مِنْ وَرَائِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ ، قَالُوا : إِذَا كَانَ الرَّجُلُ مَعَ الْإِمَامِ يَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْإِمَامِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، میں جا کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے میرا سر پکڑا اور مجھے اپنے دائیں طرف کر لیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے ،
۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد والے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب ایک آدمی امام کے ساتھ ہو تو وہ امام کے دائیں جانب کھڑا ہو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے ،
۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد والے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب ایک آدمی امام کے ساتھ ہو تو وہ امام کے دائیں جانب کھڑا ہو ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصلاة / حدیث: 232
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (1237)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/العلم 41 (117) ، والوضوء 5 (138) ، والأذان 57 (697) ، و (698) ، 59 (699) ، و77 (726) ، و79 (728) ، و161 (859) ، والوتر 1 (992) ، والعمل فی الصلاة 1 (1198) ، وتفسیر آل عمران 19 (4571) ، و20 (4572) ، واللباس 71 (5919) ، والدعوات 10 (6319) ، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763) ، سنن ابی داود/ الصلاة 70 (610) ، و316 (1364) ، سنن النسائی/الغسل 29 (443) ، الإمامة 22 (807) ، وقیام اللیل 9 (1621) ، ( تحفة الأشراف : 6356) ، مسند احمد (1/215، 252، 285، 287، 341، 347، 354، 357، 360، 365) ، سنن الدارمی/الصلاة 43 (1290) (صحیح)»