حدیث نمبر: 147
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ , وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ , قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَصَلَّى ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا " , فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ أَوْ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ " ثُمَّ قَالَ : " إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا ، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ، اس نے نماز پڑھی ، جب نماز پڑھ چکا تو کہا : اے اللہ تو مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم مت فرما ۔ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ” تم نے ایک کشادہ چیز ( یعنی رحمت الٰہی ) کو تنگ کر دیا “ ، پھر ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ وہ مسجد میں جا کر پیشاب کرنے لگا ، لوگ تیزی سے اس کی طرف بڑھے ، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر ایک ڈول پانی بہا دو ، پھر آپ نے فرمایا : ” تم تو آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہونا کہ سختی کرنے والے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ بات صحابہ سے ان کے اس اعرابی کو پھٹکارنے پر فرمائی، یعنی نرمی سے اس کے ساتھ معاملہ کرو، سختی نہ برتو۔
حدیث نمبر: 148
قَالَ سَعِيدٌ : قَالَ سُفْيَانُ : وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ نَحْوَ هَذَا . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق ، وَقَدْ رَوَى يُونُسُ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے انس بن مالک سے بھی` اسی طرح کی حدیث مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود ، ابن عباس اور واثلہ بن اسقع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود ، ابن عباس اور واثلہ بن اسقع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ۔