حدیث نمبر: 126
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ : " تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ فِيهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ ، وَتَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتَصُومُ وَتُصَلِّي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عدی کے دادا عبید بن عازب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے مستحاضہ کے سلسلہ میں فرمایا : ” وہ ان دنوں میں جن میں اسے حیض آتا ہو نماز چھوڑے رہے ، پھر وہ غسل کرے ، اور ( استحاضہ کا خون آنے پر ) ہر نماز کے لیے وضو کرے ، روزہ رکھے اور نماز پڑھے “ ۔
حدیث نمبر: 127
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شُرَيْكٌ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ قَدْ تَفَرَّدَ بِهِ شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ ، قَالَ : وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَقُلْتُ : عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ جَدُّ عَدِيٍّ مَا اسْمُهُ ؟ فَلَمْ يَعْرِفْ مُحَمَّدٌ اسْمَهُ ، وَذَكَرْتُ لِمُحَمَّدٍ قَوْلَ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ أَنَّ اسْمَهُ : دِينَارٌ ، فَلَمْ يَعْبَأْ بِهِ ، وقَالَ أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق في المستحاضة : إِنِ اغْتَسَلَتْ لِكُلِّ صَلَاةٍ هُوَ أَحْوَطُ لَهَا ، وَإِنْ تَوَضَّأَتْ لِكُلِّ صَلَاةٍ أَجْزَأَهَا ، وَإِنْ جَمَعَتْ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ أَجْزَأَهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` شریک نے اسی مفہوم کے ساتھ اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث میں شریک ابوالیقظان سے روایت کرنے میں منفرد ہیں ،
۲- احمد اور اسحاق بن راہویہ مستحاضہ عورت کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر وہ ہر نماز کے وقت غسل کرے تو یہ اس کے لیے زیادہ احتیاط کی بات ہے اور اگر وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے تو یہ اس کے لیے کافی ہے اور اگر وہ ایک غسل سے دو نمازیں جمع کرے تو بھی کافی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث میں شریک ابوالیقظان سے روایت کرنے میں منفرد ہیں ،
۲- احمد اور اسحاق بن راہویہ مستحاضہ عورت کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر وہ ہر نماز کے وقت غسل کرے تو یہ اس کے لیے زیادہ احتیاط کی بات ہے اور اگر وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے تو یہ اس کے لیے کافی ہے اور اگر وہ ایک غسل سے دو نمازیں جمع کرے تو بھی کافی ہے ۔