کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: جنبی غسل کرنے سے پہلے سوئے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 118
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ وَلَا يَمَسُّ مَاءً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سوتے اور پانی کو ہاتھ نہ لگاتے اور آپ جنبی ہوتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جنبی وضو اور غسل کے بغیر سو سکتا ہے، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا یہ عمل بیان جواز کے لیے ہے تاکہ امت پریشانی میں نہ پڑے، رہا اگلی حدیث میں آپ کا یہ عمل کہ آپ جنابت کے بعد سونے کے لیے وضو فرما لیا کرتے تھے تو یہ افضل ہے، دونوں حدیثوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 118
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (581) , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف / جه 581, أبو إسحاق مدلس (تقدم : 107) وصرح بالسماع عند البيهقي (1/201،202) ولكن المسند إليه ضعيف .
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الطہارة 90 (228) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة 98 (581) ، ( تحفة الأشراف : 16024) (صحیح)»
حدیث نمبر: 119
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفِيانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا قَوْلُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَغَيْرِهِ ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ كَانَ يَتَوَضَّأُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ " , وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، وَقَدْ رَوَى عَنْ أَبِي إِسْحَاق هَذَا الْحَدِيثَ شُعْبَةُ , وَالثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، وَيَرَوْنَ أَنَّ هَذَا غَلَطٌ مِنْ أَبِي إِسْحَاق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` ابواسحاق سے اسی طرح مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہی سعید بن مسیب وغیرہ کا قول ہے ،
۲- کئی سندوں سے عائشہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سونے سے پہلے وضو کرتے تھے ،
۳- یہ ابواسحاق سبیعی کی حدیث ( رقم ۱۱۸ ) سے جسے انہوں نے اسود سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے ، اور ابواسحاق سبیعی سے یہ حدیث شعبہ ، ثوری اور دیگر کئی لوگوں نے بھی روایت کی ہے اور ان کے خیال میں اس میں غلطی ابواسحاق سبیعی سے ہوئی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ان کا سب کا ماحصل یہ ہے کہ اسود کے تلامذہ میں سے صرف ابواسحاق سبیعی نے اس حدیث کو «كان النبي صلى الله عليه وسلم ينام وهو جنب لايمس ماء» کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے، اس کے برخلاف ان کے دوسرے تلامذہ نے اسے «إنه كان يتوضأ قبل أن ينام» کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے، لیکن کسی ثقہ راوی کا کسی لفظ کا اضافہ جو مخالف نہ ہو حدیث کے صحیح ہونے سے مانع نہیں ہے، اور ابواسحاق سبیعی ثقہ راوی ہیں، نیز یہ کہ احمد کی ایک روایت (۶/۱۰۲) میں اسود سے سننے کی صراحت موجود ہے، نیز سفیان ثوری نے بھی ابواسحاق سبیعی سے یہ روایت کی ہے اور ابواسحاق سبیعی سے ان کی روایت سب سے معتبر مانی جاتی (دیکھئیے صحیح ابوداودرقم: ۲۳۴، اور سنن ابن ماجہ رقم: ۵۸۳)۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 119
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف / جه 581, أبو إسحاق مدلس (تقدم : 107) وصرح بالسماع عند البيهقي (1/201،202) ولكن المسند إليه ضعيف .
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف : 16023) (صحیح)»