حدیث نمبر: 108
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ، فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` جب مرد کے ختنہ کا مقام ( عضو تناسل ) عورت کے ختنے کے مقام ( شرمگاہ ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا ۱؎ ، میں نے اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کیا تو ہم نے غسل کیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس باب میں ابوہریرہ ، عبداللہ بن عمرو اور رافع بن خدیج رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس باب میں ابوہریرہ ، عبداللہ بن عمرو اور رافع بن خدیج رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: گرچہ انزال نہ ہو تب بھی غسل واجب ہو گیا، پہلے یہ مسئلہ تھا کہ جب انزال ہو تب غسل واجب ہو گا، جو بعد میں اس حدیث سے منسوخ ہو گیا، دیکھئیے اگلی حدیث۔
حدیث نمبر: 109
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، قَالَ : وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ، وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، وَعَلِيٌّ ، وَعَائِشَةُ ، وَالْفُقَهَاءِ مِنَ التَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ ، مِثْلِ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَالشَّافِعِيِّ ، وَأَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق ، قَالُوا : إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ وَجَبَ الْغُسْلُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب مرد کے ختنے کا مقام عورت کے ختنے کے مقام ( شرمگاہ ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- کئی سندوں سے عائشہ رضی الله عنہا کی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم مرفوع حدیث مروی ہے کہ ” جب ختنے کا مقام ختنے کے مقام سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے “ صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے ، ان میں ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی اور عائشہ رضی الله عنہم بھی شامل ہیں ، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے بھی اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ جب دونوں ختنوں کے مقام آپس میں چھو جائیں تو غسل واجب ہو گیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- کئی سندوں سے عائشہ رضی الله عنہا کی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم مرفوع حدیث مروی ہے کہ ” جب ختنے کا مقام ختنے کے مقام سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے “ صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے ، ان میں ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی اور عائشہ رضی الله عنہم بھی شامل ہیں ، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے بھی اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ جب دونوں ختنوں کے مقام آپس میں چھو جائیں تو غسل واجب ہو گیا ۔