حدیث نمبر: 106
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةٌ فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ وَأَنْقُوا الْبَشَرَ " . وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ , وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ الْحَارِثِ بْنِ وَجِيهٍ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ ، وَهُوَ شَيْخٌ لَيْسَ بِذَاكَ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ ، وَقَدْ تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ ، وَيُقَالُ : الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ ، وَيُقَالُ : ابْنُ وَجْبَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر بال کے نیچے جنابت کا اثر ہوتا ہے ، اس لیے بالوں کو اچھی طرح دھویا کرو اور کھال کو اچھی طرح مل کر صاف کرو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں علی اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۲- حارث بن وجیہ کی حدیث غریب ہے ، اسے ہم صرف انہیں کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں ۱؎ ، وہ اس حدیث کو مالک بن دینار سے روایت کرنے میں منفرد ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں علی اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۲- حارث بن وجیہ کی حدیث غریب ہے ، اسے ہم صرف انہیں کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں ۱؎ ، وہ اس حدیث کو مالک بن دینار سے روایت کرنے میں منفرد ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس لفظ ” قوی نہیں ہیں “ کا تعلق جرح کے مراتب کے پہلے مرتبہ سے ہے، ایسے راوی کی روایت قابل اعتبار یعنی تقویت کے قابل ہے اور اس کی تقویت کے لیے مزید روایات تلاش کی جا سکتی ہیں، ایسا نہیں کہ اس کی روایت سرے سے درخوراعتناء ہی نہ ہو۔