مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: عمامہ پر مسح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 100
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال : " تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْعِمَامَةِ " . قَالَ بَكْرٌ : وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ ابْنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ ، أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِهِ وَعِمَامَتِهِ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، ذَكَرَ بَعْضُهُمُ الْمَسْحَ عَلَى النَّاصِيَةِ وَالْعِمَامَةِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ بَعْضُهُمُ النَّاصِيَةَ ، وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ ، يَقُولُ : مَا رَأَيْتُ بِعَيْنِي مِثْلَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةِ , وَسَلْمَانَ , وَثَوْبَانَ , وَأَبِي أُمَامَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ , وَأَنَسٌ ، وَبِهِ يَقُولُ الْأَوْزَاعِيُّ , وَأَحْمَدُ , وَإِسْحَاق ، قَالُوا : يَمْسَحُ عَلَى الْعِمَامَةِ , وقَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ : " لَا يَمْسَحُ عَلَى الْعِمَامَةِ إِلَّا بِرَأْسِهِ مَعَ الْعِمَامَةِ " , وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ ، وَالشَّافِعِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وسَمِعْت الْجَارُودَ بْنَ مُعَاذٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ وَكِيعَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، يَقُولُ : إِنْ مَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ يُجْزِئُهُ لِلْأَثَرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا اور دونوں موزوں اور عمامے پر مسح کیا ۔ محمد بن بشار نے ایک دوسری جگہ اس حدیث میں یہ ذکر کیا ہے کہ ” آپ نے اپنی پیشانی اور اپنے عمامے پر مسح کیا “ ، یہ حدیث اور بھی کئی سندوں سے مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی گئی ہے ، ان میں سے بعض نے پیشانی اور عمامے پر مسح کا ذکر کیا ہے اور بعض نے پیشانی کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عمرو بن امیہ ، سلمان ، ثوبان اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- صحابہ کرام میں سے کئی اہل علم کا بھی یہی قول ہے ۔ ان میں سے ابوبکر ، عمر اور انس رضی الله عنہم ہیں اور اوزاعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ عمامہ پر مسح کرے ، صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا کہنا ہے کہ عمامہ پر مسح نہیں سوائے اس صورت کے کہ عمامہ کے ساتھ ( کچھ ) سر کا بھی مسح کرے ۔ سفیان ثوری ، مالک بن انس ، ابن مبارک اور شافعی اسی کے قائل ہیں ،
۴- وکیع بن جراح کہتے ہیں کہ اگر کوئی عمامے پر مسح کر لے تو حدیث کی رو سے یہ اسے کافی ہو گا ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 100
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (137 - 138)
حدیث تخریج «سنن ابی داود/ الطہارة 59 (150) ، ( تحفة الأشراف : 11492) ، مسند احمد (4/244، 248، 250، 254) (صحیح)»
حدیث نمبر: 101
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ بِلَالٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے دونوں موزوں پر اور عمامے پر مسح کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 101
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (561)
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الطہارة 23 (275) ، سنن النسائی/الطہارة 86 (104، 106) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة 89 (561) ، ( تحفة الأشراف : 2047) ، مسند احمد (6/12، 13، 14، 15) (صحیح)»
حدیث نمبر: 102
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق هُوَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقَالَ : " السُّنَّةُ يَا ابْنَ أَخِي " , قَالَ : وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ , فَقَالَ : " أَمِسَّ الشَّعَرَ الْمَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ` میں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے دونوں موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : میرے بھتیجے ! ( یہ ) سنت ہے ۔ وہ کہتے ہیں اور میں نے عمامہ پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : بالوں کو چھوؤ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: پانی سے بالوں کو مس کرو، یعنی: عمامہ پر مسح نہ کرو۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 102
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 3165) (صحیح الإسناد)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔