حدیث نمبر: 85
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ هُوَ الْحَنَفِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَهَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْهُ ؟ أَوْ بَضْعَةٌ مِنْهُ ؟ " . قال : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي أُمَامَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعْضِ التَّابِعِينَ ، أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْا الْوُضُوءَ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ ، وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ ، وَهَذَا الْحَدِيثُ أَحَسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ , وَأَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، وَحَدِيثُ مُلَازِمِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، أَصَحُّ وَأَحْسَنُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طلق بن علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ( عضو تناسل کے سلسلے میں ) فرمایا : ” یہ تو جسم ہی کا ایک لوتھڑا یا ٹکڑا ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں ابوامامہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ،
۲- صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے نیز بعض تابعین سے بھی مروی ہے کہ عضو تناسل کے چھونے سے وضو واجب نہیں ، اور یہی اہل کوفہ اور ابن مبارک کا قول ہے ،
۳- اس باب میں مروی احادیث میں سے یہ سب سے اچھی حدیث ہے ،
۴- ایوب بن عتبہ اور محمد بن جابر نے بھی اس حدیث کو قیس بن طلق نے «عن أبیہ» سے روایت کیا ہے ۔ بعض محدثین نے محمد بن جابر اور ایوب بن عتبہ کے سلسلے میں کلام کیا ہے ،
۵- ملازم بن عمرو کی حدیث جسے انہوں نے عبداللہ بن بدر سے روایت کیا ہے ، سب سے صحیح اور اچھی ہے ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں ابوامامہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ،
۲- صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے نیز بعض تابعین سے بھی مروی ہے کہ عضو تناسل کے چھونے سے وضو واجب نہیں ، اور یہی اہل کوفہ اور ابن مبارک کا قول ہے ،
۳- اس باب میں مروی احادیث میں سے یہ سب سے اچھی حدیث ہے ،
۴- ایوب بن عتبہ اور محمد بن جابر نے بھی اس حدیث کو قیس بن طلق نے «عن أبیہ» سے روایت کیا ہے ۔ بعض محدثین نے محمد بن جابر اور ایوب بن عتبہ کے سلسلے میں کلام کیا ہے ،
۵- ملازم بن عمرو کی حدیث جسے انہوں نے عبداللہ بن بدر سے روایت کیا ہے ، سب سے صحیح اور اچھی ہے ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث اور پچھلی حدیث میں تعارض ہے، اس تعارض کو محدثین نے ایسے دور کیا ہے کہ طلق بن علی کی یہ روایت بسرہ رضی الله عنہا کی روایت سے پہلے کی ہے، اس لیے طلق رضی الله عنہ کی حدیث منسوخ ہے، رہی ان تابعین کی بات جو عضو تناسل چھونے سے وضو ٹوٹنے کے قائل نہیں ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کو بسرہ کی حدیث نہیں پہنچی ہو گی۔ کچھ علما نے اس تعارض کو ایسے دور کیا ہے کہ بسرہ کی حدیث بغیر کسی حائل (رکاوٹ) کے چھونے کے بارے میں ہے، اور طلق کی حدیث بغیر کسی حائل (پردہ) کے چھونے کے بارے میں ہے۔
۲؎: طلق بن علی رضی الله عنہ کی اس حدیث کے تمام طریق میں ملازم والا طریق سب سے بہتر ہے، نہ یہ کہ بسرہ کی حدیث سے طلق کی حدیث بہتر ہے۔
۲؎: طلق بن علی رضی الله عنہ کی اس حدیث کے تمام طریق میں ملازم والا طریق سب سے بہتر ہے، نہ یہ کہ بسرہ کی حدیث سے طلق کی حدیث بہتر ہے۔