حدیث نمبر: 79
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ وَلَوْ مِنْ ثَوْرِ أَقِطٍ " , قَالَ : فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنَتَوَضَّأُ مِنَ الدُّهْنِ أَنَتَوَضَّأُ مِنَ الْحَمِيمِ ؟ قَالَ : فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : يَا ابْنَ أَخِي إِذَا سَمِعْتَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَضْرِبْ لَهُ مَثَلًا . قال : وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، وأُمِّ سَلَمَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، وَأَبِي طَلْحَةَ ، وَأَبِي أَيُّوبَ ، وَأَبِي مُوسَى . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْوُضُوءَ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ ، وَأَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ عَلَى تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ” آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو ہے اگرچہ وہ پنیر کا کوئی ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو “ ، اس پر ابن عباس نے ان سے کہا : ابوہریرہ رضی الله عنہ ( بتائیے ) کیا ہم گھی اور گرم پانی ( کے استعمال ) سے بھی وضو کریں ؟ تو ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا : بھتیجے ! تم جب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنو تو اس پر ( عمل کرو ) باتیں نہ بناؤ ۔ ( اور مثالیں بیان کر کے قیاس نہ کرو ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں ام حبیبہ ، ام سلمہ ، زید بن ثابت ، ابوطلحہ ، ابوایوب انصاری اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۲- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو ہے ، لیکن صحابہ ، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا مذہب ہے کہ اس سے وضو نہیں ، ( دلیل اگلی حدیث ہے ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں ام حبیبہ ، ام سلمہ ، زید بن ثابت ، ابوطلحہ ، ابوایوب انصاری اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۲- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو ہے ، لیکن صحابہ ، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا مذہب ہے کہ اس سے وضو نہیں ، ( دلیل اگلی حدیث ہے ) ۔