حدیث نمبر: 71
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ : " دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ ، فَبَالَ عَلَيْهِ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ عَلَيْهِ " . قال : وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ , وَعَائِشَةَ , وَزَيْنَبَ , وَلُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ أُمُّ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَأَبِي السَّمْحِ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , وَأَبِي لَيْلَى , وَابْنِ عَبَّاسٍ . قال أبو عيسى : وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ ، مِثْلِ أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق ، قَالُوا : يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ ، وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا ، فَإِذَا طَعِمَا غُسِلَا جَمِيعًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام قیس بنت محصن رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئی ، وہ ابھی تک کھانا نہیں کھاتا تھا ۱؎ ، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اسے اس پر چھڑک لیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں علی ، عائشہ ، زینب ، فضل بن عباس کی والدہ لبابہ بنت حارث ، ابوالسمح ، عبداللہ بن عمرو ، ابولیلیٰ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۲- صحابہ کرام ، تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں کا یہی قول ہے کہ بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے اور بچی کا پیشاب دھویا جائے ، اور یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ دونوں کھانا نہ کھانے لگ جائیں ، اور جب وہ کھانا کھانے لگ جائیں تو بالاتفاق دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں علی ، عائشہ ، زینب ، فضل بن عباس کی والدہ لبابہ بنت حارث ، ابوالسمح ، عبداللہ بن عمرو ، ابولیلیٰ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۲- صحابہ کرام ، تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں کا یہی قول ہے کہ بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے اور بچی کا پیشاب دھویا جائے ، اور یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ دونوں کھانا نہ کھانے لگ جائیں ، اور جب وہ کھانا کھانے لگ جائیں تو بالاتفاق دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس کی غذا صرف دودھ تھی، ابھی اس نے کھانا شروع نہیں کیا تھا۔