حدیث نمبر: 58
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ " , قال : قُلْتُ لِأَنَسٍ : فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ أَنْتُمْ ؟ قَالَ : كُنَّا نَتَوَضَّأُ وُضُوءًا وَاحِدًا . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ ، وَالْمَشْهُورُ عَنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَقَدْ كَانَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَى الْوُضُوءَ لِكُلِّ صَلَاةٍ اسْتِحْبَابًا لَا عَلَى الْوُجُوبِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے باوضو ہوتے یا بے وضو ۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی الله عنہ سے پوچھا : آپ لوگ کیسے کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہی وضو کرتے تھے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- حمید کی حدیث بواسطہ انس اس سند سے غریب ہے ، اور محدثین کے نزدیک مشہور عمرو بن عامر والی حدیث ہے جو بواسطہ انس مروی ہے ، اور بعض اہل علم ۲؎ کی رائے ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو مستحب ہے نہ کہ واجب ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- حمید کی حدیث بواسطہ انس اس سند سے غریب ہے ، اور محدثین کے نزدیک مشہور عمرو بن عامر والی حدیث ہے جو بواسطہ انس مروی ہے ، اور بعض اہل علم ۲؎ کی رائے ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو مستحب ہے نہ کہ واجب ۔
وضاحت:
۱؎: ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں پڑھتے تھے۔
۲؎: بلکہ اکثر اہل علم کی یہی رائے ہے۔
۲؎: بلکہ اکثر اہل علم کی یہی رائے ہے۔
حدیث نمبر: 59
وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ " . قَالَ : وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْأَفْرِيقِيُّ ، عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ الْأَفْرِيقِيِّ، وَهُوَ إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ : قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ : ذَكَرَ لِهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ هَذَا الْحَدِيثُ ، فَقَالَ : هَذَا إِسْنَادٌ مَشْرِقِيٌ ، قال : سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ ، يَقُولُ : مَا رَأَيْتُ بِعَيْنِي مِثْلَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو وضو پر وضو کرے گا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث افریقی نے ابوغطیف سے اور ابوغطیف نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، ہم سے اسے حسین بن حریث مروزی نے محمد بن یزید واسطی کے واسطے سے بیان کیا ہے اور محمد بن یزید نے افریقی سے روایت کی ہے اور یہ سند ضعیف ہے ،
۲- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطان کہتے ہیں : انہوں نے اس حدیث کا ذکر ہشام بن عروہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ سند مشرقی ہے ۱؎ ،
۳- میں نے احمد بن حسن کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے : میں نے اپنی آنکھ سے یحییٰ بن سعید القطان کے مثل کسی کو نہیں دیکھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث افریقی نے ابوغطیف سے اور ابوغطیف نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، ہم سے اسے حسین بن حریث مروزی نے محمد بن یزید واسطی کے واسطے سے بیان کیا ہے اور محمد بن یزید نے افریقی سے روایت کی ہے اور یہ سند ضعیف ہے ،
۲- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطان کہتے ہیں : انہوں نے اس حدیث کا ذکر ہشام بن عروہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ سند مشرقی ہے ۱؎ ،
۳- میں نے احمد بن حسن کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے : میں نے اپنی آنکھ سے یحییٰ بن سعید القطان کے مثل کسی کو نہیں دیکھا ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث کے رواۃ مدینہ کے لوگ نہیں ہیں بلکہ اہل مشرق (اہل کوفہ اور بصرہ) ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اتنے معتبر نہیں ہیں جتنا اہل مدینہ ہیں۔
حدیث نمبر: 60
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مَهْدِيّ , قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأنْصَارِيِّ، قَال : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ , قُلْتُ : فَأَنْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ ؟ قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ مَا لَمْ نُحْدِثْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ حَدِيثٌ جَيِّدٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن عامر انصاری کہتے ہیں کہ` میں نے انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے ، میں نے ( انس سے ) پوچھا : پھر آپ لوگ کیسے کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا کہ جب تک ہم «حدث» نہ کرتے ساری نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اور حمید کی حدیث جو انس سے مروی ہے جید غریب حسن ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اور حمید کی حدیث جو انس سے مروی ہے جید غریب حسن ہے ۔