کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: مسواک کا بیان​۔
حدیث نمبر: 22
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَدِيثُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِلَاهُمَا عِنْدِي صَحِيحٌ ، لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثُ ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّمَا صَحَّ ، لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، وَأَمَّا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل فَزَعَمَ أَنَّ حَدِيثَ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَصَحُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ , وَعَلِيٍّ , وَعَائِشَةَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَحُذَيْفَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ , وَأَنَسٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , وَابْنِ عُمَرَ , وَأُمِّ حَبِيبَةَ , وَأَبِي أُمَامَةَ , وَأَبِي أَيُّوبَ , وَتَمَّامِ بْنِ عَبَّاسٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ , وَأُمِّ سَلَمَةَ , وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ , وَأَبِي مُوسَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر مجھے اپنی امت کو حرج اور مشقت میں مبتلا کرنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- بروایت ابوسلمہ ، ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی الله عنہما کی مروی دونوں حدیثیں میرے نزدیک صحیح ہیں ، محمد بن اسماعیل بخاری کا خیال ہے کہ ابوسلمہ کی زید بن خالد رضی الله عنہ سے مروی حدیث زیادہ صحیح ہے ۲؎ ،
۲- اس باب میں ابوبکر صدیق ، علی ، عائشہ ، ابن عباس ، حذیفہ ، زید بن خالد ، انس ، عبداللہ بن عمرو ، ابن عمر ، ام حبیبہ ، ابوامامہ ، ابوایوب ، تمام بن عباس ، عبداللہ بن حنظلہ ، ام سلمہ ، واثلہ بن الاسقع اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: مسواک واجب نہ کرنے کی مصلحت امت سے مشقت و حرج کو دور رکھنا ہے، اس سے صرف مسواک کے وجوب کی نفی ہوتی ہے، رہا مسواک کا مسنون ہونا تو وہ علی حالہ باقی ہے۔
۲؎: امام بخاری نے اس طریق کو دو وجہوں سے راجح قرار دیا ہے: ایک تو یہ کہ اس سے ایک واقعہ وابستہ ہے اور وہ ابوسلمہ کا یہ کہنا ہے کہ زید بن خالد مسواک اپنے کان پر اسی طرح رکھے رہتے تھے جیسے کاتب قلم اپنے کان پر رکھے رہتا ہے اور جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ یحییٰ بن ابی کثیر نے محمد بن ابراہیم کی متابعت کی ہے جس کی تخریج امام احمد نے کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 22
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (287)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الجمعة 8 (887) ، والتمنی 9 (7240) ، صحیح مسلم/الطہارة 15 (252) ، سنن ابی داود/ الطہارة 25 (46) ، سنن النسائی/الطہارة 7 (7) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة 7 (287) ، ( تحفة الأشراف : 15056) ، موطا امام مالک/الطہارة 32 (14) ، سنن الدارمی/الطہارة 17 (710) ، والصلاة 168 (1525) ، ( تحفة الأشراف : 15056) (صحیح)»
حدیث نمبر: 23
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ " . قال : فَكَانَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ يَشْهَدُ الصَّلَوَاتِ فِي الْمَسْجِدِ وَسِوَاكُهُ عَلَى أُذُنِهِ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْكَاتِبِ ، لَا يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ إِلَّا أُسْتَنَّ ثُمَّ رَدَّهُ إِلَى مَوْضِعِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اگر مجھے اپنی امت کو حرج و مشقت میں مبتلا کرنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر صلاۃ کے وقت ( وجوباً ) مسواک کرنے کا حکم دیتا ، نیز میں عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرتا ( راوی حدیث ) ابوسلمہ کہتے ہیں : اس لیے زید بن خالد رضی الله عنہ نماز کے لیے مسجد آتے تو مسواک ان کے کان پر بالکل اسی طرح ہوتی جیسے کاتب کے کان پر قلم ہوتا ہے ، وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے پھر اسے اس کی جگہ پر واپس رکھ لیتے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ہر نماز کے وقت مسواک مسنون ہے، «عند كل صلاة» ہر نماز کے وقت سے جو مقصد ہے وہ مسجد میں داخل ہو کر، وضو خانہ میں، یا نماز کے وقت وضو کے ساتھ مسواک کر لینے سے بھی پورا ہو جاتا ہے، یہ ہندوستان اور پاکستان کے باشندے عموماً نیم یا کیکر کی مسواک کرتے ہیں اور عرب میں پیلو کی مسواک کا استعمال بہت زیادہ ہے، اور یہاں لوگ نماز کے وقت بکثرت مسواک کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 23
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (37) , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف / د 47
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الطہارة 25 (47) ( تحفة الأشراف : 3766) مسند احمد (4/116) (صحیح)»