کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب یا پاخانہ کرنے کی رخصت​۔
حدیث نمبر: 9
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ ، فَرَأَيْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ يَسْتَقْبِلُهَا " . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , وَعَائِشَةَ , وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ . قال أبو عيسى : حَدِيثُ جَابِرٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ہم پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں ، پھر میں نے وفات سے ایک سال پہلے آپ کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس باب میں جابر رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- اس باب میں ابوقتادہ ، عائشہ ، اور عمار بن یاسر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 9
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (325)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الطہارة (13) سنن ابن ماجہ/الطہارة 18 (325) ( تحفة الأشراف : 2574) (صحیح) (سند میں محمد بن اسحاق صدوق ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 10
وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ " . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن لہیعہ نے یہ حدیث ابوالزبیر سے اور ابوالزبیر نے جابر رضی الله عنہ سے کہ` ابوقتادہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ جابر رضی الله عنہ کی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ حدیث ابن لہیعہ کی حدیث ( جس میں جابر کے بعد ابوقتادہ رضی الله عنہ کا واسطہ ہے ) سے زیادہ صحیح ہے ، ابن لہیعہ محدّثین کے نزدیک ضعیف ہیں ، یحییٰ بن سعیدالقطان وغیرہ نے ان کی حفظ کے اعتبار سے تضعیف کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 10
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف, إبن لهيعه ضعيف بعد اختلاطه و مدلس (د 739) وأبو الزبير مدلس (د 2) والحديث السابق (الأصل : 9) يغني عنه
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 12081) (ضعیف الإسناد)»
حدیث نمبر: 11
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : رَقِيتُ يَوْمًا عَلَى بَيْتِ حَفْصَةَ ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَلَى حَاجَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ مُسْتَدْبِرَ الْكَعْبَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک روز میں ( اپنی بہن ) حفصہ رضی الله عنہا کے گھر کی چھت پر چڑھا تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ شام کی طرف منہ اور کعبہ کی طرف پیٹھ کر کے قضائے حاجت فرما رہے ہیں ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: احتمال یہ ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا یہ فعل خاص آپ کے لیے کسی عذر کی بنا پر تھا اور امت کے لیے خاص حکم کے ساتھ آپ صلی الله علیہ وسلم کا یہ فعل قطعاً معارض ہے، اور پھر یہ کہ آپ اوٹ تھے۔ (تحفۃ الأحوذی: ۱/۲۲، ونیل الأوطارللشوکانی)
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 11
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (322)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الوضوء 12 (145) صحیح مسلم/الطہارة 17 (611) سنن ابی داود/ الطہارة 5 (12) سنن النسائی/الطہارة 22 (23) سنن ابن ماجہ/الطہارة 18 (322) ( تحفة الأشراف : 8552) موطا امام مالک/القبلة 2 (3) مسند احمد (2/12، 13) سنن الدارمی/الطہارة 8 (694) (صحیح)»