مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: شبہ والی چیزیں چھوڑنے کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 5713
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ , عَنْ ابْنِ عَوْنٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ , وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَاتٍ " , وَرُبَّمَا قَالَ : " وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَةً , وَسَأَضْرِبُ فِي ذَلِكَ مَثَلًا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَمَى حِمًى , وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَا حَرَّمَ , وَإِنَّهُ مَنْ يَرْعَ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَى " , وَرُبَّمَا قَالَ : " يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ وَإِنَّ مَنْ خَالَطَ الرِّيبَةَ يُوشِكُ أَنْ يَجْسُرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” حلال واضح ہے ، اور حرام ( بھی ) واضح ہے ، ان کے درمیان شبہ والی کچھ چیزیں ہیں ۱؎ ، میں تم سے ایک مثال بیان کرتا ہوں : اللہ تعالیٰ نے ایک چراگاہ کی باڑھ لگائی ہے ( اور اللہ کی چراگاہ محرمات ہیں ) جو بھی اس باڑھ کے اردگرد چرائے گا ، عین ممکن ہے کہ وہ چراگاہ میں بھی چرا ڈالے ۔ ( کبھی «يوشك أن يخالط الحمى» کے بجائے «يوشك أن يرتع» کہا ) ( معنی ایک ہے الفاظ کا فرق ہے ) ، اسی طرح جو شبہ کا کام کرے گا ممکن ہے وہ آگے ( حرام کام کرنے کی ) جرات کر بیٹھے ۔ ۱؎ : کبھی «إن بين ذلك أمور مشتبهات» کے بجائے یوں کہا : «إن بين ذلك أمورا مشتبهة» مفہوم ایک ہی ہے بس لفظ کے واحد و جمع ہونے کا فرق ہے ، گویا دنیاوی چیزیں تین طرح کی ہیں : حلال ، حرام اور مشتبہ ، پس حلال چیزیں وہ ہیں جو کتاب و سنت میں بالکل واضح ہیں جیسے دودھ ، شہد ، میوہ ، گائے اور بکری وغیرہ ، اسی طرح حرام چیزیں بھی کتاب و سنت میں واضح ہیں ، جیسے شراب ، زنا ، قتل اور جھوٹ وغیرہ ، اور مشتبہ وہ ہے جو کسی حد تک حلال سے اور کسی حد تک حرام سے یعنی دونوں سے مشابہت رکھتی ہو ، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راستہ میں ایک کھجور پڑا ہوا دیکھا تو فرمایا کہ اگر اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کا ہو سکتا ہے تو میں اسے کھا لیتا ۔ اس لیے مشتبہ امر سے اپنے آپ کو بچا لینا ضروری ہے ۔ کیونکہ اسے اپنانے کی صورت میں حرام میں پڑنے کا خطرہ ہے ، نیز شبہ والی چیز میں پڑتے پڑتے حرام میں پڑنے اور اسے اپنانے کی جسارت کر سکتا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5713
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 4458 (صحیح)»
حدیث نمبر: 5714
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ , عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْديِّ , قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : مَا حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : حَفِظْتُ مِنْهُ : " دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالحوراء سعدی کہتے ہیں کہ` میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات یاد ہے ؟ تو انہوں نے کہا : مجھے آپ کی یہ بات یاد ہے : جو شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور وہ کرو جس میں شک نہ ہو ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5714
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «سنن الترمذی/القیامة 60 (2518)، (تحفة الأشراف: 3405)، مسند احمد (1/200) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔