حدیث نمبر: 5654
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، عَنْ الْأَحْوَصِ بْنِ جَوَّابٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا ، وَمَنْ أَرَادَ زِيَارَةَ الْقُبُورِ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ ، وَاشْرَبُوا ، وَاتَّقُوا كُلَّ مُسْكِرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں قربانی کے گوشت ( ذخیرہ کرنے ) سے روکا تھا ، لیکن اب تم اسے رکھ چھوڑو اور ذخیرہ کرو ، اور جو قبروں کی زیارت کرنا چاہے کرے ، اس لیے کہ اس سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے اور پیو ( ہر چیز ) البتہ نشہ لانے والی چیز سے بچو ۔
حدیث نمبر: 5655
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ , فَزُورُوهَا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا ، اب تم زیارت کرو ، میں نے تین دن سے زیادہ تک قربانی کے گوشت ( جمع کرنے ) سے منع کیا تھا ، لیکن اب جب تک تمہارا جی چاہے رکھ چھوڑو ، میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ ( برتنوں ) کی نبیذ سے منع کیا تھا ، لیکن اب تم تمام قسم کے برتنوں میں پیو البتہ نشہ لانے والی چیز مت پیو “ ۔
حدیث نمبر: 5656
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى بْنِ مَعْدَانَ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُبَيْدٌ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ : زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَلْتَزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا مِنْهَا مَا شِئْتُمْ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ فِي الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِي أَيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں تین چیزوں سے روکا تھا : قبروں کی زیارت سے تو اب تم ( قبروں کی زیارت ) کرو ، اس کی زیارت سے تمہاری بہتری ہو گی ، میں نے تمہیں تین دن سے زائد قربانی کے گوشت ( ذخیرہ کرنے ) سے روکا تھا ، لیکن اب تم جب تک چاہو اس میں سے کھاؤ ، میں نے تمہیں کچھ برتنوں کے مشروب سے روکا تھا ، لیکن اب تم جس برتن میں چاہو پیو اور کوئی نشہ لانے والی چیز نہ پیو “ ۔
حدیث نمبر: 5657
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَوْعِيَةِ , فَانْتَبِذُوا فِيمَا بَدَا لَكُمْ ، وَإِيَّاكُمْ وَكُلَّ مُسْكِرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں ( مخصوص ) برتنوں کے استعمال سے منع کیا تھا ، لیکن اب تمہیں جو بہتر لگے اس میں نبیذ تیار کرو ، البتہ ہر نشہ لانے والی چیز سے بچو “ ۔
حدیث نمبر: 5658
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ مَرْوَزِيٌّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُبَيْدٍ الْكِنْدِيُّ خُرَاسَانِيٌّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَسِيرُ إِذْ حَلَّ بِقَوْمٍ , فَسَمِعَ لَهُمْ لَغَطًا ، فَقَالَ : " مَا هَذَا الصَّوْتُ ؟ " , قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , لَهُمْ شَرَابٌ يَشْرَبُونَهُ ، فَبَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ فَدَعَاهُمْ ، فَقَالَ : " فِي أَيِّ شَيْءٍ تَنْتَبِذُونَ ؟ " , قَالُوا : نَنْتَبِذُ فِي النَّقِيرِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَلَيْسَ لَنَا ظُرُوفٌ ، فَقَالَ : " لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أَوْكَيْتُمْ عَلَيْهِ " ، قَالَ : فَلَبِثَ بِذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ ثُمَّ رَجَعَ عَلَيْهِمْ فَإِذَا هُمْ قَدْ أَصَابَهُمْ وَبَاءٌ وَاصْفَرُّوا ، قَالَ : " مَا لِي أَرَاكُمْ قَدْ هَلَكْتُمْ ؟ " , قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرْضُنَا وَبِيئَةٌ ، وَحَرَّمْتَ عَلَيْنَا ، إِلَّا مَا أَوْكَيْنَا عَلَيْهِ ، قَالَ : " اشْرَبُوا وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جا رہے تھے ، اسی دوران اچانک کچھ لوگوں کے پاس ٹھہرے ، تو ان میں کچھ گڑبڑ آواز سنی ، فرمایا : ” یہ کیسی آواز ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : اللہ کے نبی ! ان کا ایک قسم کا مشروب ہے جسے وہ پی رہے ہیں ، آپ نے لوگوں کو بلا بھیجا اور فرمایا : ” تم لوگ کس چیز میں نبیذ تیار کرتے ہو ؟ “ وہ بولے : ہم لوگ لکڑی کے برتن اور کدو کی تونبی میں تیار کرتے ہیں ۔ ہمارے پاس ( ان کے علاوہ ) دوسرے برتن نہیں ہوتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم صرف ڈاٹ لگے ہوئے برتنوں میں پیو “ ، پھر آپ وہاں کچھ دنوں تک ٹھہرے رہے جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا ، پھر جب ان کے پاس لوٹ کر گئے تو دیکھا کہ وہ استسقاء کے مرض میں مبتلا ہو کر پیلے پڑ گئے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں تباہ و برباد دیکھ رہا ہوں “ ، وہ بولے : اللہ کے نبی ! ہمارا علاقہ وبائی ہے آپ نے ہم پر ( تمام برتن ) حرام کر دیے سوائے ان برتنوں کے جن پر ہم نے ڈاٹ لگائی ہو ، آپ نے فرمایا : پیو ( جیسے چاہو ) البتہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔
حدیث نمبر: 5659
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ , وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَهَى عَنِ الظُّرُوفِ شَكَتْ الْأَنْصَارُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَيْسَ لَنَا وِعَاءٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلَا إِذًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کچھ برتنوں سے روکا تو انصار کو شکایت ہوئی ، چنانچہ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس کوئی اور برتن نہیں ہے تو آپ نے فرمایا : ” تب تو نہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی پھر تو ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔