کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: مختلف قسم کے غلوں اور پھلوں سے بنی ہوئی نشہ لانے والی شراب کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5584
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَهْلَنَا يَنْبِذُونَ لَنَا شَرَابًا عَشِيًّا فَإِذَا أَصْبَحْنَا شَرِبْنَا ، قَالَ : " أَنْهَاكَ عَنِ الْمُسْكِرِ قَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ ، وَأُشْهِدُ اللَّهَ عَلَيْكَ ، أَنْهَاكَ عَنِ الْمُسْكِرِ قَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ ، وَأُشْهِدُ اللَّهَ عَلَيْكَ ، إِنَّ أَهْلَ خَيْبَرَ يَنْتَبِذُونَ شَرَابًا مِنْ كَذَا وَكَذَا وَيُسَمُّونَهُ كَذَا وَكَذَا ، وَهِيَ الْخَمْرُ ، وَإِنَّ أَهْلَ فَدَكٍ يَنْتَبِذُونَ شَرَابًا مِنْ كَذَا وَكَذَا يُسَمُّونَهُ كَذَا وَكَذَا ، وَهِيَ الْخَمْرُ ، حَتَّى . . عَدَّ أَشْرِبَةً أَرْبَعَةً أَحَدُهَا الْعَسَلُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن سیرین کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا : ہمارے گھر والے ہمارے لیے شام کو شراب بناتے ہیں ، جب صبح ہوتی ہے تو ہم پیتے ہیں ، وہ بولے : میں تمہیں ہر نشہ لانے والی چیز سے روکتا ہوں ، کم ہو یا زیادہ ، اور میں تم پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں تمہیں کم ہو یا زیادہ ہر نشہ لانے والی چیز سے روکتا ہوں ، اور میں تم پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ خیبر والے فلاں فلاں چیز سے شراب بناتے ہیں اور اسے فلاں فلاں نام دیتے ہیں حالانکہ وہ خمر ( شراب ) ہے ، اور اہل فدک فلاں فلاں چیز سے شر اب بناتے ہیں اور اسے فلاں فلاں نام دیتے ہیں ، حالانکہ وہ خمر ( شراب ) ہے ، یہاں تک کہ انہوں نے چار طرح کی شرابیں گنائیں ان میں سے ایک شہد تھا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی نشہ لانے والی چیزوں کے نام کی تبدیلی سے اس کی حرمت پر کچھ بھی اثر نہیں پڑتا، اسی طرح اس کی حرمت پر قلت و کثرت کا کوئی بھی اثر نہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5584
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7436) (صحیح الإسناد)»