حدیث نمبر: 5380
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ , وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ وَعِنْدَهُ أُنَاسٌ يَسِيرُ ، فَجَاءَهُ بِلَالٌ , فَأَذَّنَ فَجَعَلَ يُتْبِعُ فَاهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم لوگ بطحاء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ ایک لال خیمے میں تھے اور آپ کے پاس تھوڑے سے لوگ بیٹھے تھے ، اتنے میں آپ کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اذان دینی شروع کی ، تو اپنا منہ اِدھر اُدھر کرنے لگے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کے وقت اپنا رخ دائیں اور بائیں کرنے لگے۔