کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: چیتھڑے سے بال جوڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5249
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنِ الزُّورِ " , قَالَ : وَجَاءَ بِخِرْقَةٍ سَوْدَاءَ فَأَلْقَاهَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ، فَقَالَ : هُوَ هَذَا تَجْعَلُهُ الْمَرْأَةُ فِي رَأْسِهَا ، ثُمَّ تَخْتَمِرُ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے کہا : لوگو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں جھوٹ اور فریب سے روکا ہے ، راوی ( ابن المسیب ) کہتے ہیں : اور انہوں نے ایک کالا چیتھڑا نکالا پھر اسے ان کے سامنے رکھ دیا اور کہا : یہی ہے وہ ( یعنی جھوٹ اور فریب کاری ) ، اسے عورت اپنے سر میں لگا کر دوپٹا اوڑھ لیتی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس عورت کے اپنے اصلی بال بڑے لمبے لمبے ہیں، اور لمبے بال عورتوں کی خوبصورتی میں شمار ہوتے ہیں، تو گویا غیر خوبصورت عورت خود کو مصنوعی ذریعے سے خوبصورت ظاہر کر کے اس کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، یہ عمل اسلام کی نظر میں ناپسندیدہ ہے کیونکہ یہ دھوکا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5249
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 5095 (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 5250
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الزُّورِ ، وَالزُّورُ : الْمَرْأَةُ تَلُفُّ عَلَى رَأْسِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ اور فریب کاری سے منع فرمایا ، اور جھوٹ اور فریب کاری یہ ہے کہ عورت ( بال زیادہ دکھانے کے لیے ) سر پر کچھ لپیٹ لے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزاينة (من المجتبى) / حدیث: 5250
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 5095 (صحیح)»