حدیث نمبر: 5241
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يُقَالُ لَهُ : عُبَيْدٌ ، قَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْإِرْفَاهِ " . سُئِلَ ابْنُ بُرَيْدَةَ عَنِ الْإِرْفَاهِ ؟ قَالَ : مِنْهُ التَّرَجُّلُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبید نامی ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «ارفاہ» ( بہت زیادہ عیش میں پڑ جانے ) سے منع فرماتے تھے ۔ عبداللہ بن بریدہ سے پوچھا گیا : «ارفاہ» کیا ہے ؟ کہا : «ارفاہ» میں ( ہر روز ) کنگھی کرنا بھی شامل ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: لفظ «ترجل» کا معنی ” ہر روز کنگھی کرنا “ اس لیے کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی کنگھی کرتے تھے، اور اس کی ترغیب بھی دیتے تھے، (جیسا کہ حدیث نمبر: ۵۲۳۸ میں ہے) آپ نے صرف کثرت سے کنگھی کرنے سے منع فرمایا، اور ناغہ کر کے کرنے کی اجازت دی ہے۔