حدیث نمبر: 5123
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ ، عَنْ حُكَيْمِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ رَدْعٌ مِنْ خَلُوقٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَانْهَكْهُ " , ثُمَّ أَتَاهُ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَانْهَكْهُ " , ثُمَّ أَتَاهُ , فَقَالَ : " اذْهَبْ فَانْهَكْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، وہ خلوق میں لتھڑا ہوا تھا تو اس سے آپ نے فرمایا : ” جاؤ اور اسے دھو ڈالو “ ، پھر وہ آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا ” : ” جاؤ اسے دھو ڈالو “ ۔ وہ پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : ” جاؤ اسے دھو ڈالو ، پھر آئندہ نہ لگانا “ ۔
حدیث نمبر: 5124
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عَمْرٍو ، وَقَالَ عَلَى إِثْرِهِ , يُحَدِّثُ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَخَلِّقٌ ، فَقَالَ لَهُ : " هَلْ لَكَ امْرَأَةٌ ؟ " , قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " فَاغْسِلْهُ ، ثُمَّ اغْسِلْهُ ، ثُمَّ لَا تَعُدْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ، اور وہ خلوق لگائے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” کیا تمہاری بیوی ہے ؟ “ کہا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” تو اسے دھوؤ اور دھوؤ پھر نہ لگانا “ ۔
حدیث نمبر: 5125
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عَمْرٍو ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا مُتَخَلِّقًا ، قَالَ : " اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ ، ثُمَّ اغْسِلْهُ وَلَا تَعُدْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ” جاؤ اسے دھو لو ، اور پھر دھو لو اور دوبارہ نہ لگانا “ ۔
حدیث نمبر: 5126
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ يَعْلَى نَحْوَهُ , خَالَفَهُ سُفْيَانُ رَوَاهُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ يَعْلَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ) سفیان کی روایت اس کے برخلاف ہے ، چنانچہ انہوں نے اسے عطاء بن سائب سے ، انہوں نے عبداللہ بن حفص سے اور انہوں نے یعلیٰ سے روایت کیا ہے ۔ ( عبداللہ بن حفص وہی ابوحفص بن عمرو ہے جو پچھلی سند میں ہے ۔ )
حدیث نمبر: 5127
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : أَبْصَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِي رَدْعٌ مِنْ خَلُوقٍ ، قَالَ : " يَا يَعْلَى , لَكَ امْرَأَةٌ ؟ " , قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ ، ثُمَّ اغْسِلْهُ ، ثُمَّ لَا تَعُدْ ، ثُمَّ اغْسِلْهُ ، ثُمَّ لَا تَعُدْ " ، قَالَ : فَغَسَلْتُهُ ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ ثُمَّ غَسَلْتُهُ ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ، مجھ پر خلوق کا داغ لگا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : ” یعلیٰ ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ “ میں نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” اسے دھو لو ، پھر نہ لگانا ، پھر دھو لو اور نہ لگانا اور پھر دھو لو اور نہ لگانا “ ، میں نے اسے دھو لیا اور پھر نہ لگایا ، میں نے پھر دھویا اور نہ لگایا اور پھر دھویا اور نہ لگایا ۔
حدیث نمبر: 5128
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ يَعْقُوبَ الصَّبِيحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مُوسَى يَعْنِي مُحَمَّدًا ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ يَعْلَى ، قَالَ : مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ ، فَقَالَ : " أَيْ يَعْلَى , هَلْ لَكَ امْرَأَةٌ ؟ " , قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ ، ثُمَّ اغْسِلْهُ ، ثُمَّ اغْسِلْهُ ، ثُمَّ لَا تَعُدْ " ، قَالَ : فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، میں خلوق لگائے ہوئے تھا ، آپ نے فرمایا : ” یعلیٰ ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” جاؤ ، اسے دھوؤ ، پھر دھوؤ اور پھر دھوؤ ، پھر ایسا نہ کرنا “ ، میں گیا اور اسے دھویا پھر دھویا اور پھر دھویا پھر ایسا نہیں کیا ۔