حدیث نمبر: 5058
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بالوں میں ) کنگھی کرنے سے منع فرمایا ، مگر ایک دن چھوڑ کر ۔
حدیث نمبر: 5059
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن بصری سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا مگر ایک دن چھوڑ کر ۔
حدیث نمبر: 5060
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ , وَمُحَمَّدٍ , قَالَا : " التَّرَجُّلُ غِبٌّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن بصری اور محمد بن سیرین کہتے ہیں :` ( بالوں میں ) کنگھی ایک ایک دن چھوڑ کر کرنا چاہیئے ۔
حدیث نمبر: 5061
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِلًا بِمِصْرَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ , فَإِذَا هُوَ شَعِثُ الرَّأْسِ مُشْعَانٌّ ، قَالَ : مَا لِي أَرَاكَ مُشْعَانًّا وَأَنْتَ أَمِيرٌ ؟ قَالَ : " كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا عَنِ الْإِرْفَاهِ " ، قُلْنَا : وَمَا الْإِرْفَاهُ ، قَالَ : " التَّرَجُّلُ كُلَّ يَوْمٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ` ایک صحابی رسول جو مصر میں افسر تھے ، ان کے پاس ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص آیا جو پراگندہ سر اور بکھرے ہوئے بال والا تھا ، تو انہوں نے کہا : کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو پراگندہ سرپا رہا ہوں حالانکہ آپ امیر ہیں ؟ وہ بولے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں «ارفاہ» سے منع فرماتے تھے ، ہم نے کہا : «ارفاہ» کیا ہے ؟ روزانہ بالوں میں کنگھی کرنا ۔