کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: چور کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4981
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " اقْتُلُوهُ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا سَرَقَ ، قَالَ : " اقْطَعُوهُ " فَقُطِعَ ، ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ : " اقْتُلُوهُ " , فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا سَرَقَ ، قَالَ : " اقْطَعُوهُ " فَقُطِعَ ، فَأُتِيَ بِهِ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ : " اقْتُلُوهُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا سَرَقَ ، فَقَالَ : " اقْطَعُوهُ " ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الرَّابِعَةَ ، فَقَالَ : " اقْتُلُوهُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا سَرَقَ ، قَالَ : " اقْطَعُوهُ " ، فَأُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ ، قَالَ : " اقْتُلُوهُ " , قَالَ جَابِرٌ : فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى مِرْبَد النَّعَمِ وَحَمَلْنَاهُ فَاسْتَلْقَى عَلَى ظَهْرِهِ ثُمَّ كَشَّرَ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَانْصَدَعَتِ الْإِبِلُ ، ثُمَّ حَمَلُوا عَلَيْهِ الثَّانِيَةَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ حَمَلُوا عَلَيْهِ الثَّالِثَةَ فَرَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ فَقَتَلْنَاهُ ، ثُمَّ أَلْقَيْنَاهُ فِي بِئْرٍ , ثُمَّ رَمَيْنَا عَلَيْهِ بِالْحِجَارَةِ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ , وَمُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک چور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، آپ نے فرمایا : ” اسے مار ڈالو “ ، لوگوں نے کہا : اس نے صرف چوری کی ہے ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” ( اس کا دایاں ہاتھ ) کاٹ دو “ ، تو کاٹ دیا گیا ، پھر وہ دوسری بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اسے مار ڈالو “ ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے صرف چوری کی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ( اس کا بایاں پاؤں ) کاٹ دو “ ، چنانچہ کاٹ دیا گیا ، پھر وہ تیسری بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اسے مار ڈالو “ ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے صرف چوری کی ہے ، آپ نے فرمایا : ” ( اس کا دایاں پاؤں ) کاٹ دو “ ، پھر وہ چوتھی بار لایا گیا ۔ آپ نے فرمایا : ” اسے مار ڈالو “ ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے صرف چوری کی ہے ، آپ نے فرمایا : ” ( اس کا بایاں پاؤں ) کاٹ دو “ ، وہ پھر پانچویں بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اسے مار ڈالو “ ، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو ہم اسے «مربد نعم» ( جانور باندھنے کی جگہ ) کی جانب لے کر چلے اور اسے لادا ، تو وہ چت ہو کر لیٹ گیا پھر وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے بل بھاگا تو اونٹ بدک گئے ، لوگوں نے اسے دوبارہ لادا اس نے پھر ایسا ہی کیا پھر تیسری بار لادا پھر ہم نے اسے پتھر مارے اور اسے قتل کر دیا ، اور ایک کنویں میں ڈال دیا پھر اوپر سے اس پر پتھر مارے ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں : یہ حدیث منکر ہے ، مصعب بن ثابت حدیث میں زیادہ قوی نہیں ہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، لیکن منسوخ ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب قطع السارق / حدیث: 4981
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الحدود 20 (4410)، (تحفة الأشراف: 3082) (حسن) (اس کے راوی ’’ مصعب ‘‘ ضعیف ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، لیکن یہ حکم منسوخ ہے)»