حدیث نمبر: 4864
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ ، فَلَا دِيَةَ لَهُ وَلَا قِصَاصَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں جھانکے ، پھر وہ اس کی آنکھ پھوڑ دے ، تو جھانکنے والا نہ دیت لے سکے گا نہ بدلہ “ ۔
حدیث نمبر: 4865
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ فَخَذَفْتَهُ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ حَرَجٌ " ، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى : " جُنَاحٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر کوئی بلا اجازت تمہارے یہاں جھانکے پھر تم اسے پتھر پھینک کر مارو اور اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا “ ۔ اور ایک بار آپ نے فرمایا : ” کوئی گناہ نہیں ہو گا “ ۔
حدیث نمبر: 4866
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فَإِذَا بِابْنٍ لِمَرْوَانَ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَدَرَأَهُ فَلَمْ يَرْجِعْ , فَضَرَبَهُ فَخَرَجَ الْغُلَامُ يَبْكِي حَتَّى أَتَى مَرْوَانَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : مَرْوَانُ لِأَبِي سَعِيدٍ : لِمَ ضَرَبْتَ ابْنَ أَخِيكَ ؟ . قَالَ : مَا ضَرَبْتُهُ إِنَّمَا ضَرَبْتُ الشَّيْطَانَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ , فَأَرَادَ إِنْسَانٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيَدْرَؤُهُ مَا اسْتَطَاعَ , فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ نماز پڑھ رہے تھے ، اچانک مروان کا بیٹا ان کے آگے سے گزر رہا تھا ، آپ نے اسے روکا ، وہ نہیں لوٹا تو آپ نے اسے مارا ، بچہ روتا ہوا نکلا اور مروان کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی ، مروان نے ابو سعید خدری سے کہا : آپ نے اپنے بھتیجے کو کیوں مارا ؟ انہوں نے کہا : میں نے اسے نہیں ، بلکہ شیطان کو مارا ہے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم میں سے جب کوئی نماز میں ہو اور کوئی انسان سامنے سے گزرنے کا ارادہ کرے تو اسے طاقت بھر روکے ، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے ، اس لیے کہ وہ شیطان ہے “ ۔