کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: طمانچے اور تھپڑ کے قصاص کا بیان۔
حدیث نمبر: 4779
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ فِي أَبٍ كَانَ لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , فَلَطَمَهُ الْعَبَّاسُ ، فَجَاءَ قَوْمُهُ ، فَقَالُوا : لَيَلْطِمَنَّهُ كَمَا لَطَمَهُ , فَلَبِسُوا السِّلَاحَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ , أَيُّ أَهْلِ الْأَرْضِ تَعْلَمُونَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، فَقَالُوا : أَنْتَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، لَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا ، فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا " ، فَجَاءَ الْقَوْمُ , فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِكَ اسْتَغْفِرْ لَنَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ` ایک شخص نے ان کے جاہلیت کے کسی باپ دادا کو برا بھلا کہا تو عباس رضی اللہ عنہ نے اسے تھپڑ مار دیا ، اس کے آدمیوں نے آ کر کہا : وہ لوگ بھی انہیں تھپڑ ماریں گے جیسا کہ انہوں نے مارا ہے اور ہتھیار اٹھا لیے ۔ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ منبر پر چڑھے اور فرمایا : ” لوگو ! تم جانتے ہو کہ زمین والوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت کون ہے ؟ “ انہوں نے کہا : آپ ، آپ نے فرمایا : ” تو عباس میرے ہیں اور میں عباس کا ہوں ، تم لوگ ہمارے مردوں کو برا بھلا نہ کہو جس سے ہمارے زندوں کو تکلیف ہو “ ، ان لوگوں نے آ کر کہا : اللہ کے رسول ! ہم آپ کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4779
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (3759) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 356
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5545)، مسند احمد (1/300) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ عبدالاعلی ثعلبی ‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں، لیکن اس کا جملہ ’’لاتسبوا۔۔۔ ‘‘ شواہد سے تقویت پاکر صحیح ہے)»