کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: اس حدیث میں عطاء بن ابی رباح کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 4769
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمَّيْهِ سَلَمَةَ , وَيَعْلَى ابْنَيْ أُمَيَّةَ ، قَالَا : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، وَمَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا ، فَقَاتَلَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ , فَعَضَّ الرَّجُلُ ذِرَاعَهُ , فَجَذَبَهَا مِنْ فِيهِ فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ ، فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ ، فَقَالَ : " يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ فَيَعَضُّهُ كَعَضِيضِ الْفَحْلِ ، ثُمَّ يَأْتِي يَطْلُبُ الْعَقْلَ ، لَا عَقْلَ لَهَا ، فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمہ بن امیہ اور یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے ، ہمارے ساتھ ایک اور ساتھی تھے وہ کسی مسلمان سے لڑ پڑے ، اس نے ان کے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا ، انہوں نے ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کا دانت اکھڑ گیا ، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دیت کا مطالبہ کرنے آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کے پاس جا کر اونٹ کی طرح اسے دانت کاٹتا ہے ، پھر دیت مانگنے آتا ہے ، ایسے دانت کی کوئی دیت نہیں “ ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیت نہیں دلوائی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4769
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الدیات 20 (2656)، (تحفة الأشراف: 4554، 11835)، مسند احمد (4/222، 223، 224) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4770
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ , فَانْتُزِعَتْ ثَنِيَّتُهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَهْدَرَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے دوسرے شخص کا ہاتھ کاٹ کھایا تو پہلے شخص کا دانت اکھڑ گیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو آپ نے اسے لغو قرار دیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی دیت نہیں دلوائی۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4770
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: سكت عنه الشيخ , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الإجارة 5 (2265)، الجہاد 20 (2973)، المغازي 78 (4417)، الدیات 18 (6893)، صحیح مسلم/الحدود 4 (1674)، سنن ابی داود/الدیات 24 (4584)، (تحفة الأشراف: 11837)، مسند احمد (4/222، 223، 224)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4771- 4776) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4771
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ مَرَّةً أُخْرَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ يَعْلَى . وَابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ يَعْلَى أَنَّهُ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا ، فَقَاتَلَ رَجُلًا , فَعَضَّ يَدَهُ فَانْتُزِعَتْ ثَنِيَّتُهُ ، فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَيَدَعُهَا يَقْضَمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے ایک شخص کو نوکر رکھا ، اس کی ایک آدمی سے لڑائی ہو گئی ، تو اس نے اس کا ہاتھ کاٹ کھایا ، چنانچہ اس کا دانت اکھڑ گیا ، وہ اس کے ساتھ جھگڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : ” کیا وہ اپنا ہاتھ چھوڑ دیتا کہ وہ اسے اونٹ کی طرح چبا جائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4771
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4770 (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 4772
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا ، فَقَاتَلَ أَجِيرِي رَجُلًا , فَعَضَّ الْآخَرُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَأَهْدَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا ، میں نے ایک شخص کو نوکر رکھا ، پھر میرے نوکر کی ایک شخص سے لڑائی ہو گئی ، تو دوسرے نے اسے دانت کاٹ لیا ، چنانچہ اس کا دانت اکھڑ گیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لغو قرار دیا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4772
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر رقم 4770 (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 4773
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ وَكَانَ أَوْثَقَ عَمَلٍ لِي فِي نَفْسِي , وَكَانَ لِي أَجِيرٌ ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبِهِ فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ ، وَقَالَ : " أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جیش العسرۃ ۱؎ ( غزوہ تبوک ) میں جہاد کیا ، میرے خیال میں یہ میرا بہت اہم کام تھا ، میرا ایک نوکر تھا ، ایک شخص سے اس کا جھگڑا ہو گیا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کی انگلی کاٹ کھائی ، پھر پہلے نے اپنی انگلی کھینچی تو دوسرے آدمی کا دانت نکل کر گر پڑا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، آپ نے اس کے دانت کی دیت نہیں دلوائی ، اور فرمایا : ” کیا وہ اپنے ہاتھ تیرے منہ میں چھوڑ دیتا کہ تو اسے چباتا رہے ؟ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ اس آیت کریمہ: «الذين اتبعوه في ساعة العسرة» سے ماخوذ ہے اور یہ غزوہ تبوک کا دوسرا نام ہے، اس جنگ میں زاد سفر کی بے انتہا قلت تھی اسی لیے اسے ساعۃ العسرۃ کہا گیا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4773
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4770 (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 4774
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ , فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيه بِمِثْلِ الَّذِي عَضَّ ، فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا دِيَةَ لَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے` اس جیسے شخص جس نے دانت کاٹا ہو اور اس کا دانت اکھڑ گیا ہو کے بارے میں روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لیے دیت نہیں ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4774
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4769 (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 4775
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ : أَنَّ أَجِيرًا لِيَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ عَضَّ آخَرُ ذِرَاعَهُ فَانْتَزَعَهَا مِنْ فِيهِ ، فَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَدْ سَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ ، فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " أَيَدَعُهَا فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صفوان بن یعلیٰ بن منیہ ( امیہ ) سے روایت ہے کہ` یعلیٰ بن منیہ ( امیہ ) رضی اللہ عنہ کے ایک نوکر کو ایک دوسرے شخص نے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا ، اس ( نوکر ) نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا ، یہ معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا اور حال یہ تھا کہ اس آدمی کا دانت اکھڑ کر گر گیا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لغو قرار دیا ، اور فرمایا : ” کیا وہ تمہارے منہ میں اسے چھوڑ دیتا تاکہ تم اسے اونٹ کی طرح چبا جاؤ “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4775
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4770 (صحیح) (سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 4776
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمَّارٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى : أَنَّ أَبَاهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَاسْتَأْجَرَ أَجِيرًا ، فَقَاتَلَ رَجُلًا , فَعَضَّ الرَّجُلُ ذِرَاعَهُ , فَلَمَّا أَوْجَعَهُ نَتَرَهَا فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فَيَعَضُّ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ " فَأَبْطَلَ ثَنِيَّتَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صفوان بن یعلیٰ سے روایت ہے کہ` ان کے والد نے غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ، انہوں نے ایک نوکر رکھ لیا تھا ، اس کا ایک شخص سے جھگڑا ہو گیا تو اس آدمی نے اس ( نوکر ) کے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا ، جب اسے تکلیف ہوئی تو اس نے اسے زور سے کھینچا ، تو اس ( آدمی ) کا دانت نکل پڑا ، یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا ، تو آپ نے فرمایا : ” کیا تم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنے بھائی کو چبائے جیسے اونٹ چباتا ہے ؟ “ چنانچہ آپ نے دانت کی دیت نہیں دلوائی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4776
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4769 (صحیح)»