کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: دانت کے قصاص کا بیان۔
حدیث نمبر: 4756
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو خَالِدٍ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْقِصَاصِ فِي السِّنِّ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت میں قصاص کا فیصلہ فرمایا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی کتاب قصاص کا حکم دیتی ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4756
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 685)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر البقرة 23 (4499) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4757
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اپنے غلام کو قتل کیا ، اسے ہم قتل کریں گے اور جس نے اپنے غلام کا کوئی عضو کاٹا تو اس کا عضو ہم کاٹیں گے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس آخری جملہ کی باب سے مطابقت ہے، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے، پچھلی اور اگلی حدیثوں میں ہمارے لیے اس موضوع پر کافی مواد موجود ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4757
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4740 (ضعیف)»
حدیث نمبر: 4758
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ خَصَى عَبْدَهُ خَصَيْنَاهُ ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ " . وَاللَّفْظُ لِابْنِ بَشَّارٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اپنے غلام کو خصی کیا اسے ہم خصی کریں گے اور جس نے اپنے غلام کا عضو کاٹا ہم اس کا عضو کاٹیں گے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4758
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4740 (ضعیف)»
حدیث نمبر: 4759
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ أُخْتَ الرُّبَيِّعِ أُمَّ حَارِثَةَ جَرَحَتْ إِنْسَانًا , فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ " ، فَقَالَتْ أُمُّ الرَّبِيعِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُقْتَصُّ مِنْ فُلَانَةَ , لَا وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أُمَّ الرَّبِيعِ , الْقِصَاصُ كِتَابُ اللَّهِ " ، قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ , لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا فَمَا زَالَتْ حَتَّى قَبِلُوا الدِّيَةَ ، قَالَ : " إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ربیع کی بہن ام حارثہ رضی اللہ عنہا ۱؎ نے ایک شخص کو زخمی کر دیا ، وہ لوگ مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قصاص ہو گا قصاص “ ، ام ربیع رضی اللہ عنہا بولیں : اللہ کے رسول ! کیا فلاں عورت سے قصاص لیا جائے گا ؟ نہیں ، اللہ کی قسم ! اس سے کبھی بھی قصاص نہ لیا جائے گا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی ذات پاک ہے ، ام ربیع ! قصاص تو اللہ کی کتاب کا حکم ہے “ ، وہ بولیں : نہیں ، اس سے ہرگز قصاص نہ لیا جائے گا ، وہ کہتی رہیں ، یہاں تک کہ انہوں نے دیت قبول کر لی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے بندوں میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کو ( قسم میں ) سچا کر دیتا ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس روایت میں زخمی کرنے والی کا نام ربیع بنت نضر کی بہن ام حارثہ ہے اور اعتراض کرنے والی ربیع ہیں، جب کہ اگلی روایت میں زخمی کرنے کی نسبت خود ربیع بنت نضر کی طرف کی گئی ہے، اور اعتراض کرنے کی نسبت ان کے بھائی انس بن نضر کی طرف کی گئی ہے، حافظ ابن حزم وغیرہ علماء کی تحقیق کے مطابق یہ الگ الگ دو واقعات ہیں، حافظ ابن حجر کا رجحان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے، (دیکھئیے کتاب الدیات باب ۱۹)۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القسامة والقود والديات / حدیث: 4759
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/القسامة 5 (1675)، (تحفة الأشراف: 332)، مسند احمد (3/ 284) (صحیح)»