حدیث نمبر: 4725
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ : النَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي ، وَالتَّارِكُ دِينَهُ الْمُفَارِقُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی مسلمان کا خون بہانا جائز تین صورتوں کے علاوہ جائز نہیں ہے : جان کے بدلے جان ۱؎ ، جس کا نکاح ہو چکا ہو وہ زنا کرے ، جو دین چھوڑ دے اور اس سے پھر جائے “ ۔
وضاحت:
۱؎: اسی لفظ سے ” قصاص “ کا حکم ثابت ہوتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ جان ناحق لی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 4726
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ , وَأَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ , وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قُتِلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرُفِعَ الْقَاتِلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ ، فَقَالَ الْقَاتِلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ : " أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ثُمَّ قَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ " ، فَخَلَّى سَبِيلَهُ ، قَالَ : وَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ , فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ فَسُمِّيَ ذَا النِّسْعَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتل کر دیا گیا ، قاتل کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، تو آپ نے اسے مقتول کے ولی کے حوالے کر دیا ۱؎ ، قاتل نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا ارادہ قتل کا نہ تھا ، آپ نے مقتول کے ولی سے فرمایا : ” سنو ! اگر وہ سچ کہہ رہا ہے اور تم نے اسے قتل کر دیا تو تم بھی جہنم میں جاؤ گے “ ، تو اس نے اسے چھوڑ دیا ۔ وہ شخص رسی سے بندھا ہوا تھا ، وہ اپنی رسی گھسیٹتا ہوا نکلا تو اس کا نام ذوالنسعۃ ( رسی والا ) پڑ گیا ۔
وضاحت:
۱؎: اس لیے حوالہ کر دیا کہ وہ اس کو قصاص میں قتل کر دیں، اسی سے قصاص کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 4727
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاق ، عَنْ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جِيءَ بِالْقَاتِلِ الَّذِي قَتَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِهِ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَعْفُو ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " أَتَقْتُلُ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " اذْهَبْ " ، فَلَمَّا ذَهَبَ دَعَاهُ ، قَالَ : " أَتَعْفُو ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " أَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " أَتَقْتُلُ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " اذْهَبْ " , فَلَمَّا ذَهَبَ ، قَالَ : " أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ " ، فَعَفَا عَنْهُ فَأَرْسَلَهُ ، قَالَ : فَرَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` اس قاتل کو جس نے قتل کیا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، اسے مقتول کا ولی پکڑ کر لایا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم معاف کرو گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا قتل کرو گے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : ” جاؤ ( قتل کرو ) “ ، جب وہ ( قتل کرنے ) چلا تو آپ نے اسے بلا کر کہا : ” کیا تم معاف کرو گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا دیت لو گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” تو کیا قتل کرو گے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : ” جاؤ ( قتل کرو ) “ ، جب وہ ( قتل کرنے ) چلا ، تو آپ نے فرمایا : ” اگر تم اسے معاف کر دو تو تمہارا گناہ اور تمہارے ( مقتول ) آدمی کا گناہ اسی پر ہو گا “ ۱؎ ، چنانچہ اس نے اسے معاف کر دیا اور اسے چھوڑ دیا ، میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی رسی گھسیٹتا جا رہا تھا ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ بلا کچھ لیے دئیے ولی کے معاف کر دینے کی صورت میں ولی اور مقتول دونوں کے گناہ کا حامل قاتل ہو گا، لیکن اس میں اشکال ہے کہ ولی کے گناہ کا حامل کیونکر ہو گا، اس لیے حدیث کے اس ظاہری مفہوم کی توجیہ کچھ اس طرح کی گئی ہے کہ ولی کے معاف کر دینے کے سبب رب العالمین ولی اور مقتول دونوں کو مغفرت سے نوازے گا اور قاتل اس حال میں لوٹے گا کہ مغفرت کے سبب ان دونوں کے گناہ زائل ہو چکے ہوں گے۔ ۲؎: یہ وہی آدمی ہے جس کا تذکرہ پچھلی حدیث میں گزرا۔