کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: ایک شخص سامان بیچے پھر اس کا مالک کوئی اور نکلے۔
حدیث نمبر: 4683
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرِ بْنِ سِمَاكٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى أَنَّهُ إِذَا وَجَدَهَا فِي يَدِ الرَّجُلِ غَيْرِ الْمُتَّهَمِ فَإِنْ شَاءَ أَخَذَهَا بِمَا اشْتَرَاهَا وَإِنْ شَاءَ اتَّبَعَ سَارِقَهُ " . وَقَضَى بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسید بن حضیر بن سماک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اگر کوئی کسی شخص کے ہاتھ میں اپنی ( چوری کی ہوئی ) چیز پائے اور اس پر چوری کا الزام نہ ہو تو چاہے تو اتنی قیمت ادا کر کے اس سے لے لے جتنے میں اس نے اسے خریدا ہے اور چاہے تو چور کا پیچھا کرے ، یہی فیصلہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے ( بھی ) کیا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4683
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 150)، مسند احمد (4/226) (صحیح الإسناد) (اسید حضیر کے بجائے صحیح ’’ اسید بن ظہیر‘‘ ہے)»
حدیث نمبر: 4684
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ ذُؤَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , وَلَقَدْ أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّ ، ثُمَّ أَحَدَ بَنِي حَارِثَةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ كَانَ عَامِلًا عَلَى الْيَمَامَةِ , وَأَنَّ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَيْهِ , أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَيْهِ : أَنَّ أَيَّمَا رَجُلٍ سُرِقَ مِنْهُ سَرِقَةٌ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا حَيْثُ وَجَدَهَا ، ثُمَّ كَتَبَ بِذَلِكَ مَرْوَانُ إِلَيَّ , فَكَتَبْتُ إِلَى مَرْوَانَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِأَنَّهُ : " إِذَا كَانَ الَّذِي ابْتَاعَهَا مِنَ الَّذِي سَرَقَهَا غَيْرُ مُتَّهَمٍ يُخَيَّرُ سَيِّدُهَا ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الَّذِي سُرِقَ مِنْهُ بِثَمَنِهَا ، وَإِنْ شَاءَ اتَّبَعَ سَارِقَهُ " , ثُمَّ قَضَى بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ ، فَبَعَثَ مَرْوَانُ بِكِتَابِي إِلَى مُعَاوِيَةَ , وَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى مَرْوَانَ إِنَّكَ لَسْتَ أَنْتَ وَلَا أُسَيْدٌ تَقْضِيَانِ عَلَيَّ وَلَكِنِّي أَقْضِي فِيمَا وُلِّيتُ عَلَيْكُمَا ، فَأَنْفِذْ لِمَا أَمَرْتُكَ بِهِ ، فَبَعَثَ مَرْوَانُ بِكِتَابِ مُعَاوِيَةَ ، فَقُلْتُ : لَا أَقْضِي بِهِ مَا وُلِّيتُ بِمَا قَالَ مُعَاوِيَةُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بنی حارثہ کے ایک فرد اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` وہ یمامہ کے گورنر تھے ، مروان نے ان کو لکھا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا ہے کہ جس کی کوئی چیز چوری ہو جائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے ، جہاں بھی اسے پائے ، پھر مروان نے یہ بات مجھے لکھی تو میں نے مروان کو لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ چوری کرنے والے سے ایک ایسے شخص نے کوئی چیز خریدی جس پر چوری کا الزام نہ ہو تو اس چیز کے مالک کو اختیار دیا جائے گا چاہے تو وہ اس کی قیمت دے کر اسے لے لے ( جتنی قیمت اس نے چور کو دی ہے ) اور اگر چاہے تو چور کا پیچھا کرے ، یہی فیصلہ ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے کیا ، پھر مروان نے میری یہ تحریر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجی ، معاویہ رضی اللہ عنہ نے مروان کو لکھا : تمہیں اور اسید کو حق نہیں کہ تم دونوں مجھ پر حکم چلاؤ بلکہ تمہارا والی اور امیر ہونے کی وجہ سے میں تم کو حکم کروں گا ، لہٰذا جو حکم میں نے تمہیں دیا ہے ، اس پر عمل کرو ، مروان نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی تحریر ( میرے پاس ) بھیجی تو میں نے کہا : جب تک میں حاکم ہوں ان کے حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کروں گا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق کروں گا، معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم کے مطابق نہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4684
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 156) (صحیح)»
حدیث نمبر: 4685
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرَّجُلُ أَحَقُّ بِعَيْنِ مَالِهِ إِذَا وَجَدَهُ , وَيَتْبَعُ الْبَائِعُ مَنْ بَاعَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی اپنے سامان کا زیادہ حقدار ہے جب کسی کے پاس پائے ، اور بیچنے والا جس کے پاس چیز پائی گئی ہے وہ اپنے بیچنے والے کا پیچھا کرے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4685
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3531) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
تخریج حدیث «سنن ابی داود/البیوع80(3531)، (تحفة الأشراف: 4595)، مسند احمد (5/13، 18) (ضعیف) (قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور متن پچھلے متن کا مخالف بھی ہے)»
حدیث نمبر: 4686
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا ، وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی عورت کی شادی دو ولیوں نے کر دی تو وہ ان میں پہلے شوہر کی ہو گی ، اور جس نے کوئی چیز دو آدمیوں سے بیچی تو وہ چیز ان میں سے پہلے کی ہو گی ۔
وضاحت:
۱؎: پہلے ولی کے ذریعے ہونے والے نکاح کا اعتبار ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4686
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/النکاح 22 (2088)، سنن الترمذی/النکاح 20 (1110)، سنن ابن ماجہ/التجارات 21 (2191)، الأحکام 19 (2344)، (تحفة الأشراف: 4582)، مسند احمد (5/8، 11، 12، 18، 22)، سنن الدارمی/النکاح 15 (2240) (ضعیف) (قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے)»