کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: ایک بیع میں دو شرط لگانا یعنی کوئی یہ کہے کہ میں تم سے اس شرط پر یہ سامان بیچ رہا ہوں کہ اگر ایک مہینہ میں قیمت ادا کر دو گے تو اتنے روپے کا ہے اور دو مہینہ میں ادا کرو گے تو اتنے کا۔۔
حدیث نمبر: 4634
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ أَبِيهِ , حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ , وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ , وَلَا رِبْحُ , مَا لَمْ يُضْمَنْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سلف ( قرض ) اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں ، اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں ، اور نہ ہی ایسی چیز کا نفع جس کے تاوان کی ذمے داری نہ ہو “ ۔
وضاحت:
۱؎: اور دونوں میں سے کسی ایک پر بات طے نہ ہو، اور اگر کسی ایک پر بات طے ہو جائے تو پھر بیع حلال اور جائز ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4634
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4615 (حسن صحیح)»
حدیث نمبر: 4635
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَلَفٍ وَبَيْعٍ , وَعَنْ شَرْطَيْنِ فِي بَيْعٍ وَاحِدٍ , وَعَنْ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ , وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلف ( قرض ) اور بیع ایک ساتھ کرنے سے ، ایک ہی بیع میں دو شرطیں لگانے سے ، اور اس چیز کے بیچنے سے جو تمہارے پاس موجود نہ ہو اور ایسی چیز کے نفع سے جس کے تاوان کی ذمہ داری نہ ہو ، ( ان سب سے ) منع فرمایا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب البيوع / حدیث: 4635
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 4615 (حسن صحیح)»