کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: سلف اور بیع ایک ساتھ کرنا (یعنی بیچنے والا ایک چیز بیچے اس شرط پر کہ خریدار اس کو قرض دے)۔
حدیث نمبر: 4633
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , عَنْ خَالِدٍ , عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ سَلَفٍ وَبَيْعٍ , وَشَرْطَيْنِ فِي بَيْعٍ وَرِبْحِ , مَا لَمْ يُضْمَنْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلف اور بیع ایک ساتھ کرنے ، ایک بیع میں دو شرطیں لگانے ، اور اس چیز کے نفع لینے سے منع فرمایا جس کے تاوان کا وہ ذمے دار ( ضامن ) نہ ہو ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس چیز کو بیچنا جو ابھی پہلے بیچنے والے سے خریدار کے قبضے میں آئی بھی نہ ہو، اور نہ ہی اس کے اوصاف (وزن، ناپ اور نوعیت) معلوم ہو۔