حدیث نمبر: 4621
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا , فَأَتَاهُ يَتَقَاضَاهُ بَكْرَهُ , فَقَالَ لِرَجُلٍ : " انْطَلِقْ فَابْتَعْ لَهُ بَكْرًا " , فَأَتَاهُ , فَقَالَ : مَا أَصَبْتُ إِلَّا بَكْرًا رَبَاعِيًا خِيَارًا , فَقَالَ : " أَعْطِهِ , فَإِنَّ خَيْرَ الْمُسْلِمِينَ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے اونٹ کے بچے میں بیع سلم کی ، وہ شخص اپنے نوجوان اونٹ کا تقاضا کرتا ہوا آیا تو آپ نے ایک شخص سے کہا : ” جاؤ ، اس کے لیے نوجوان اونٹ خرید دو “ ، اس نے آپ کے پاس آ کر کہا : مجھے تو سوائے بہترین ، «رباعی» ( جو ساتویں برس میں لگ چکا ہو ) نوجوان اونٹ کے کوئی نہیں ملا ، آپ نے فرمایا : ” اسے وہی دے دو ، اس لیے کہ بہترین مسلمان وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں بہتر ہو “ ۔
حدیث نمبر: 4622
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنٌّ مِنَ الْإِبِلِ فَجَاءَ يَتَقَاضَاهُ , فَقَالَ : " أَعْطُوهُ " , فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ , قَالَ : " أَعْطُوهُ " , فَقَالَ : أَوْفَيْتَنِي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ ایک شخص کا ایک جوان اونٹ باقی تھا ، وہ آپ کے پاس تقاضا کرتا ہوا آیا تو آپ نے ( صحابہ سے ) فرمایا : ” اسے دے دو “ ، انہیں اس سے زیادہ عمر کے ہی اونٹ ملے تو آپ نے فرمایا : ” اسی کو دے دو “ ، اس نے کہا : آپ نے پورا پورا ادا کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو “ ۔
حدیث نمبر: 4623
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ هَانِئٍ , يَقُولُ : سَمِعْتُ عِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ , يَقُولُ : " بِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ , فَقَالَ : " أَجَلْ لَا أَقْضِيكَهَا إِلَّا نَجِيبَةً " , فَقَضَانِي فَأَحْسَنَ قَضَائِي , وَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ يَتَقَاضَاهُ سِنَّهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطُوهُ سِنًّا " , فَأَعْطَوْهُ يَوْمَئِذٍ جَمَلًا , فَقَالَ : " هَذَا خَيْرٌ مِنْ سِنِّي " , فَقَالَ : " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ قَضَاءً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک جوان اونٹ بیچا تو میں آپ کے پاس اس کا تقاضا کرنے آیا ، آپ نے فرمایا : ” میں تو تمہیں بختی ( عمدہ قسم کا اونٹ ) دوں گا “ ، پھر آپ نے مجھے ادا کیا تو بہت اچھا ادا کیا ، اور آپ کے پاس ایک اعرابی ( دیہاتی ) اپنا جوان اونٹ مانگتے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا : ” اسے جوان اونٹ دے دو “ ، تو اس دن ان لوگوں نے اسے ایک بڑا ( مکمل ) اونٹ دیا ، اس نے کہا : یہ تو میرے اونٹ سے بہتر ہے ، آپ نے فرمایا : ” تم میں بہتر وہ ہے جو بہتر طرح سے قرض ادا کرے “ ۔